تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 180
199 وفادار ہیں۔یہ منظر سبق آموز تھا اس منظر کے دیکھنے سے دل پر ایک خاص اثر ہوتا تھا۔میں خود آخری روز وہاں موجود تھا۔مجھے رہ رہ کر خیال آتا تھا کہ آخراس شخص نے پہلی جون میں کون سے ایسے کرم کئے ہیں جن کے صلہ میں اسے یہ عقل کو حیران کرنے والا عروج حاصل ہوا ہے۔میں ہی اس نظارہ کو دیکھ کر حیران نہ تھا۔بلکہ میں نے دیکھا کہ غیر احمدی مسلمان بھی (یہ) اثر لے رہے تھے میں نے بازار میں لوگوں کو باتیں کرتے شنا کوئی ظاہر شان و شوکت کی تعریف کرتا تھا کوئی مریدوں کی عقیدت کو سراہ رہا تھا۔کوئی جماعت کی تنظیم کی داد دیتا تھا۔کوئی کہتا تھا آخر یہ گروہ عبادت میں اور اس کے احکام کی پیروی میں امتیاز رکھتا ہے۔العرض میں نے دیکھا کہ غیر احمدی مسلمانوں میں سے بہت سے تعریفیں کر رہے تھے اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ان کے دلوں پر خاص اثر ہو رہا ہے۔آخر یہ کیوں میں حیران تھا کہ اپنے جیسے انسان کا درشن پانے کے لئے یہ ہزار ہا انسان تو سرگردان پھر رہے ہیں کیا یہ تمام غلطی یا جعل سازی کا شکار ہو رہے ہیں جبکہ ان کی اکثریت تعلیمیافتہ ہے اور ان میں بڑے بڑے تجربہ کار اور جہاندیدہ بزرگ بھی موجود ہیں۔میں سوچتا تھا کہ کیا تجھوٹ اور فریب سالہا سال تک پھیل لاسکتا ہے پچاس سال سے زائد عرصہ ہوا سیبکہ اس فرقہ کے بانی نے اپنے آپ کو دنیا کے سامنے پیش کیا۔اگر وہ محض فریب کار تھا تو کیا غریب میں یہ طاقت ہے کہ وہ نصف صدی تک بڑھتا اور پھولتا چلا جائے یقیناً دھوکا بازی اور فریکا کی کی تو صرف اتنی ہی حیثیت ہوتی ہے کہ 2 اگر ماند شبے ماند شبے دیگر نمی ماند لیکن یہاں یہ حالت ہے کہ تیسرا دور آتا ہے اور ہر دور میں پہلے سے زیادہ قوت وطاقت کے ساتھ یہ گروہ بڑھتا اور پھولتا جارہا ہے۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس جماعت کے دھاوی میں ضرور سچائی ہے اور اس گروہ کو بالضرور و انگور وجی کی شکتی حاصل ہے " " اسرار غور کریں ارادہی بھی ایک نے ہی جماعت ہیں۔ان کا بھی ایک امیر شریعت ہے جس کے ہاتھ پر لوگ اسی