تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 169 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 169

ISA سائیکلسٹوں کی پندرہ پارٹیاں ترتیب دی گئیں جو حضور کی کار کے ساتھ تھیں۔ڈیڑھ سو کے قریب یہ نوجوان تھے صبح در بجے حضور کی کا رشاندار طریق سے روانہ ہوئی۔بائیسکل سوار آگے اور پیچھے دائیں اور بائیں حضور کی کار کو گھیرے ہوئے تھے۔سپیشل ٹرین ، بجکر ہم منٹ پر روانہ ہونے والی تھی ، ہزارہا کی تعداد میں احمدی اس وقت اسٹیشن کے اندر باہر کھڑے تھے۔ہر شخص کے چہرے پر اس امر کی خوشی اور مسرت جھلک رہی تھی کہ اس کو اپنے آقا کی معیت کا شرف حاصل ہوگا۔چونکہ نیشنل لیگ نے بحیثیت مجموعی گاڑی کا کرایہ ادا کر دیا تھا اور ہر محلہ کیلئے ایک خاص ٹکٹ جاری کر دیئے تھے جن پر نظارت امور عامہ کی مہر تھی اور اُن پر نمبر لکھ دیئے گئے تھے تاکہ ریلوے والوں کو مسافروں کی گنتی میں کسی قسم کی دقت نہ ہو سکے۔گاڑی ٹھیک سات بج کہ ۴۵ منٹ پر روانہ ہوئی۔گاڑی میں اس قدر بھیڑ تھی کہ بہت سے لوگ گورداسپو تک کھڑے کھڑے اور بہت سے اوپر تختوں پر بیٹھ کر گئے۔گاڑیاں کھچا کھچ بھری ہوئی تھیں۔روانگی کے وقت پر ایک کمرے میں لوگوں نے رقت سے دُعائیں کیں۔الغرض دُعاؤں کے ساتھ گاڑی روانہ ہوئی۔قادیان سے چل کر بٹالہ ٹیشن پر گاڑی کھڑی ہوئی۔پولیس نے ریلوے لائن پر گاڑی کی حفاظت کیلئے باوردی سپاہی کھڑے کئے ہوئے تھے سٹیشن پر سب انسپکٹران پولیس کے علاوہ رائی صاحب پنڈت جواہر لال صاحب ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ خود با وردی موجود تھے۔بٹالہ میں گاڑی کے انجن کا رخ تبدیل کیا گیا اور گاڑی گورداسپور روانہ ہوئی جہاں گاڑی 4 بجکر ۴۵ منٹ پر پہنچ گئی۔جماعت کا یہ بے پناہ ہجوم نہایت پر امن طریق سے جلوس کی شکل میں نکلا۔پہلے اس سٹرک کی طرف گیا جہاں سے حضرت اقدس نے تشریف لانا تھا۔جلوس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پرانے پرانے صحابی اور بڑے بڑے بوڑھے اور بعض تا بانا لوگ بھی موجود تھے۔اُن کے اخلاص کی اس حالت کو دیکھ کر میرے دل میں ایک قسم کی رقت پیدا ہوتی تھی۔اس جلوس کو سینکڑوں لوگ اپنے اپنے گھروں کی چھتوں پر چڑھ کر دیکھ رہے تھے جلوس مختلف سڑکوں سے گذر کی اس جگہ پہنچا۔جہاں سے حضرت کی موٹر گذرنے والی تھی مگر افسوس ہے کہ موٹر دو چار منٹ پہلے گزرگئی۔آخرش یه مبلوس چودھری شیخ محمد تصیب صاحب کی کوٹھی پر پہنچا جہاں حضرت اقدس قیام فرما تھے۔ناظر صاحب ضیافت جناب میر محمد اسحاق صاحب دو دن پہلے سے بمع اپنے ایک خاص سٹاف کے یہاں