تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 168 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 168

۱۵۷ ظلم وستم برداشت کرتے آرہے تھے اور جن کا عراقیوں نے بائیکاٹ کو رکھا تھا، شہید کر دیئے گئے ہیں۔انا للہ د انا اليهِ رَاجِعُون۔آپ بغداد سے قریباً دو سو میل کے فاصلہ پر لواء کر لوک گاؤں میں بود و باش رکھتے تھے جب میں بغداد میں تھا تو وہ کئی ہفتے میرے پاس آکر رہے تھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے بیحد محبت اور اخلاص رکھتے تھے۔حضور کے فارسی وعربی اشعار شنکر وجد میں آجاتے اور زار و قطار رونے لگتے تھے بلے حضرت امیر المونین کا سفر گورداسپور اس سال کے بہ قابل فراموش واقعات میں سے سیدنا اور اخلاص و فدائیت کے ایمان افروز منظرحضرت امیر امینی خلیفہ ربیع الثانی کے وہ دوسر ر ہیں جو حضور نے مولوی سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری کے مقدمہ میں شہادت کے لئے مارچ ۹۳۵لہ کے آخری ایام میں اختیار فرمائے تھے۔ان تاریخی سفروں کے تفصیلی مالات اخبار الحکم ( قادیان کے نامہ نگار کے الفاظ میں درج ذیل کئے جاتے ہیں :- پہلا سفر : عطاء اللہ بخاری کے مقدمہ میں حضرت امیرالمومنین خلیفہ اسی ایدہ اللہ کے نام بھی بطور گواہ صفائی سمن تقسیم کیا گیا تھا جو حضور کے بلند مقام کو دیکھتے ہوئے خود ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ صاحب پولیس مقیم قادیان نے بمع انچارج صاحب چوکی قادیان تقسیم کیا۔حضور کی روانگی کی خبر معلوم ہونے پر قادیان اور نواح کے احمدیوں میں اس امر کا شدید جوش موجزن تھا کہ وہ اپنے امام کے ساتھ جائیں اور انہیں اندیشہ تھا کہ منتظمین ان کو روک نہ دیں۔اس لئے لوگ بار بار پوچھتے تھے کہ کیا ہم کو بجانے دیا جائے گا یا نہیں۔لوگوں کے اس جوش کا احساس کرتے ہوئے ذمہ وار افسروں نے احباب محجبات کو روکنا پسند نہیں کیا۔جانے والوں کی کثرت دیکھ کر نیشنل لیگ نے ۸۰۰۰ آدمیوں کے لئے سپیشل ٹرین ریزرو کرانے کا انتظام کیا۔۲۳ کی صبح قادیان میں ایک غیر معمولی صبح تھی چونکہ حضرت اقدس نے موٹر کار کے ذریعہ جانا تھا اس لئے نوجوانوں کی ایک بڑی جماعت نے حضور کی کار کی حفاظت کے لئے سائیکلوں پر جانے کی خواہش کی جو منظور کر کی گئی۔الفضل ۱۴ فروری ۳۵ صفحہ : حضرت احمد الفرقانی رحمہ اللہ علیہ نے مَصَائِبُ الْأَنْبِيَاءِ وَالْأَبْرَارِ عَلَى أَيْدِي السَّفَلَة والاشرارِ" کے نام سے ایک کتاب تصنیف کی تھی جو چھپ نہ سکی۔اس کتاب کا ایک قیمتی اقتباس مولانا ابو العطاء صاحب نے اپنے رسالہ البشرى " ربیع الثانی شکر یو مطابق جولائی ۹۳۵لہ صفحہ ۲۶-۲۷ ) میں شائع کر دیا تھا :