تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 166
۱۵۵ میرسے یہ خیالات ایک واہمہ سے بڑھ کر کوئی حقیقت نہیں رکھتے مگر اللہ تعالے کا یہ قانون ہے کہ جو چیز ایک دفعہ پیدا ہو جائے وہ مرتی نہیں جب تک اپنے مقصد کو پورا نہ کرے۔لوگ بیشک مجھے شیخ چلی کہہ لیں مگر میں بھانتا ہوں کہ میرے ان خیالات کا خدا تعالے کی پید کردہ فضا میں ریکار ڈ ہوتا پہلا جا رہا ہے اور وہ دن دور نہیں جب اللہ تعالیٰ میرے ان خیالات کو عملی رنگ میں پورا کرنا شروع کر دے گا۔آج نہیں تو آج سے ساٹھ یا سو سال کے بعد اگر خدا تعالے کا کوئی بندہ ایسا ہوا جو میرے ان ریکارڈوں کو پڑھ سکا اور اُسے توفیق ہوئی تو وہ ایک لاکھ مبلغ تیار کر دے گا۔پھر اللہ پہلے کسی اور بندے کو کھڑا کر دے گا جو مبلغوں کی دو لاکھ تک پہنچا دے گا۔پھر کوئی اور بندہ کھڑا ہو جائے گا جو میرے اس ریکارڈ کو دیکھ کر مبلغوں کو تین لاکھ تک پہنچا دے گا۔اس طرح قدم بقدم اللہ تعالے وہ وقت بھی لے آئے گا جب ساری دنیا میں ہمارے بین لاکھ مبلغ کام کر رہے ہوں گے۔اللہ تعالیٰ کے حضور ہر چیز کا ایک وقت مقرر ہے۔اس سے پہلے کسی چیز کے متعلق امید رکھنا بے وقوفی ہوتی ہے۔میرے یہ خیال بھی اب ریکارڈ میں محفوظ ہو چکے ہیں اور زمانہ سے میٹ نہیں سکتے۔آج نہیں تو کل اور کل نہیں تو پر یوں میرے یہ خیالات عملی شکل اختیار کرتے والے ہیں لہ "الفضل " ۲۸ اگست شششتر صفه ۶- ( تقریر فرموده ۲۸ اگست ۱۹۴۵ ه ) :