تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 162 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 162

ادا اس تحریک کی عرض عارضی نہیں ہے وہ وقت آرہا ہے جب ہمیں ساری دنیا کے دشمنوں سے لڑنا پڑیگا۔دنیا سے میری مراد یہ نہیں کہ ہر فرد سے لڑنا پڑے گا کیونکہ ہر قوم اور ہر ملک میں شریف لوگ بھی ہوتے ہیں۔میرا مطلب یہ ہے کہ تمام ممالک میں ہمارے لئے رستے بند کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔اس ہماری جنگ ہندوستان تک محدود نہ رہے گی بلکہ دوسرے ملکوں میں بھی ہمیں اپنے پیدا کرنے والے اور حقیقی بادشاہ کی طرف سے جنگ کرنی ہوگی۔اگر تو احمدیت کوئی سوسائٹی ہوتی۔تو ہم یہ کہ کر معلمئن ہو سکتے تھے کہ ہم اپنے حلقہ اثر کو محدود کر لیں گے اور جہاں جہاں احمدی ہیں وہ سمٹ کر بیٹھ جائیں گے مگر مشکل یہ ہے کہ ہمیں اللہ تعالے کی طرف سے حکم ہے کہ جو بات اس کی طرف سے آئی ہے اُسے ساری دنیا میں پہنچائیں اور ہم نے اُسے پہنچانا ہے۔ہمارا پروگرام وہ نہیں جو ہم خود تجویز کریں بلکہ ہمارا پروگرام ہمارے پیدا کرنے والے نے بنایا ہے پھر فرمایا : La " تحریک جدید تو ایک قطرہ ہے اس سمندر کا جو قربانیوں کا تمہارے سامنے آنے والا ہے جو شخص قطرہ سے ڈرتا ہے وہ سمندر میں کپ کو دے گا “ سے جماعت کو انتباہ اسی طرح حضور نے جماعت کے مین کو تنبیہ کرتے ہوئے واضح لفظوں میں بتایا کہ : → جس دن ہم میں وہ لوگ پیدا ہو گئے جنہوں نے کہا دو یہ اول بھی گزر گیا ، دور دوم بھی گزر گیا، دور سوم بھی گزر گیا ، دور چهارم بھی گزر گیا ، دور پنجم بھی گزر گیا ، دور ششم بھی گزر گیا ، دور هفتم بھی گزر گیا ، اب ہم کب تک اس قسم کی قربانیاں کرتے چلے جائیں گے آخر کہیں نہ کہیں اس کو ختم بھی تو کرنا چاہیئے۔وہ اقرار ہو گا ان لوگوں کا کہ اب ہماری روحانیت سرد ہو چکی ہے اور ہمار سے ایمان کمزور ہو گئے ہیں " کیا ہم تو امید رکھتے ہیں کہ تحریک جدید کے یہ دور غیر محدود دو کہ ہوں گے اور جس طرح آسمان کے ستارے گنتے نہیں بجاتے اسی طرح تحریک تجدید کے دور بھی نہیں گنے جائیں گے جس طرح اللہ تعالی نے حضرت ابراہیم سے کہا کہ تیری نسل گئی نہیں جائے گی اور حضرت ابراہیم کی نسل نے دین کا بہت " الفصل " دسمبر ٣٥ امید صفحه ۳ کالم ۲۔" الفضل " جولائی ۱۹۳۷ صفر ۱۰ کالم 1