تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 161
۱۵۰ ضمن میں یہ بات خصوصیت سے قابل ذکر ہے کہ مرزا محمود آنجہانی نے جو نفسیاتی محرکات ان تحریکات کے لئے تجویز کئے وہ بے حد کامیاب رہے۔مثلاً کسی ملک کی مسجد کے لئے اعلان کر دیا کہ اس کا تمام بار صرف عورتوں پر پڑے گا۔اور بعض اوقات تین چار لاکھ کی رقم سب کی سب عورتوں نے مہیا کی۔بعض تحریکات صرف کسانوں اور زمینداروں کے لئے ، بعض مالی مطالبات صرفت تاجروں سے، اور بعض کا تقاضا صرفت ملازمین سے وغیرہ " یہ ہے وہ نظام تحریک جدید جس کا آغاز احراری مخالفت کے تیز و تند طوفانوں میں ایک نہایت کمزور سے بیچ کی شکل میں ہوا۔اور جو اب خدا کے فضل و کرم سے ایک تناور درخت بن چکا ہے اور جس کی شاخیں نہایت تیزی سے دنیا کے کناروں تک پھیلتی نظر آرہی ہیں۔حق جوئی کے پرندے اس کے سائے تلے آرام کرتے اور اس کے شیریں اثمار سے مستفید ہو رہے ہیں۔پہلے سلطنت برطانیہ کے متعلق کہا جاتا تھا کہ اس پر سورج غروب نہیں ہوتا مگر اب جماعت احمدیہ بھی خدا کے فضل سے مشرق و مغرب کے دُور دراز علاقوں میں پھیل رہی ہے اور اب اس کے متعلق بھی ہم کہ سکتے ہیں کہ جماعت احمدیہ پر سُورج غروب نہیں ہوتا۔وذالك فضل الله يؤتيه من يشاء فالحمد لله على ذالك - تحریک جدید کے ان حیرت انگیز نتائج کے باوجود ہمیں یہ ایک اور تحریک بدید دائمی قربانیوں تر کی کہتے ہیں ذرہ بھر تامل نہیں کہ اس وقت تک جو کچھ بھی انجام پاچکا ہے وہ ایک خوشکن بنیاد سے بڑھ کر کوئی حیثیت نہیں رکھتا کیونکہ جیسا کہ سید نا حضرت مصلح موعود نے ایک بار فرمایا تھا Q ہے ساعت سعد آئی اسلام کی جنگوں کی آغاز تو میں کردوں انحہ مام خدا جانے بھی ان کوششوں سے کفر و اسلام کی بیٹنگ کا آغاز ہوا ہے اور دنیا کو روحانی طور پر فتح کرنے کے لئے جماعت کو بے شمار قربانیاں پیش کرنا مقدر ہے ہیں کہ حضرت خلیفہ ایسی الثانی نے شروع ہی سے جماعت کو اس حقیقت سے بخوبی آگاہ کر دیا تھا۔چنانچہ حضور نے فرمایا :- : ہفت روزہ "المنیر لائلپور ا ا ا گست ۹۶ صفحه ۷