تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 156
۱۴۵ "سیرالیون کی نئی جمہوریہ مغربی افریقہ میں احمدیہ تحریک کے لئے ایک منتخب خطہ کی حیثیت رکھتی ہے اپنے پاکستانی مرکز کی رہنمائی میں اس کشریک نے اس چھوٹی سی مملکت کے اندر خاصا اثر و نفوذ اصل کر لیا ہے۔احمدیت اپنے آپ کو زمانہ جدید کی ایک اسلامی تحریک کے طور پر پیش کرتی ہے اور اس امر کی دعویدار ہے کہ وہ دنیا کے ہر حصے میں نبرد آزما ہوتے ہوئے اسلام کے ایک نئے علمبردار کی حیثیت رکھتی ہے۔یہ فیصلہ کرنا کہ اب تک اس تحریک میں کتنے لوگ داخل ہوچکے ہیں ہمشکل ہے۔تاہم احمدیوں کے اپنے اندازہ کے مطابق پاکستان اور ہندوستان میں ہی اُن کی تعدا۔پانچ لاکھ سے زیادہ ہے۔ایک مذہبی فرقے کے لئے بلحاظ تعداد اس کے افراد کا کم ہونا یا اس کے معتقدات کی مخصوص نوعیت جو دوسروں کے لئے پورے طور پر قابل فہم نہ ہو، نقصان کا موجب نہیں ہوا کرتی۔ایسے فرقے صدیوں تک زمانے کے حالات سے نبرد آزما رہنے کے انداز سے بہرہ ور ہوتے ہیں۔مذاہب کی تاریخ ایسے چھوٹے چھوٹے فرقوں کی مثالوں سے بھری ہوئی ہے جنہوں نے زمانہ کے اتار چڑھاؤ اور اکثریت کے دباؤ کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنی ہستی کو بر قرار رکھا۔اس بات کا امکان ہے کہ احمد میت بھی مستقبل میں اس طرح نمایاں طور پر پھلے پھو نے۔ایک ایسے وقت میں جبکہ اسلامی دنیا مغرب کی لا دینی ثقافت کے زیبا تہ آجانے کے باعث ادھر اُدھر بھٹک رہی ہے۔احمدیوں کا دعویٰ یہ ہے کہ اُن کی تحریک اسلام کو اس طور سے پیش کرتی ہے کہ جو دنیائے جدید کے تقاضوں کے عین مطابق ہے۔پھر وہ اسلام کی آخری فتح کے بارے میں نہایت درجہ پر اعتماد ہیں۔ایسی صورت میں احمدیت اُن نئی نسلوں کے لئے دلکش اور جاذب نظر ثابت ہو سکتی ہے جو اصلاح حال کے پیش نظر نئے انداز فکر کی تلاش میں سرگردان ہیں۔“ (ترجمہ) له گیمبیا کے ایک اخبار دی وین گارڈ" ( VAN اخبار دی وین گارڈ گیمبیا ) نے اپنے ایک اوریہ میں لکھا :-۔۔GUARD ) THE اس فرقہ کے بانی حضرت مرزا غلام احمد صاحب علیہ السلام ) نے اس فرقہ کی بنیاد قادیان میں لے بحوالہ ماہنامہ " انصار الله " بابت ماہ فروری ۱۹۶۲ و صفحه ۴۲ - ۴۴ به