تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 157 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 157

104 ۱۸۸۹ء میں رکھی تھی اس وقت سے لیکر اب تک یہ فرقہ ساری دنیا میں پھیل چکا ہے اور اسلام کی ترقی کے لئے تبلیغی اور تعلیمی کوششوں میں پہلے سے بہت زیادہ مصروف ہے “ اپنے گھر کے پاس نگاہ دوڑا کر دیکھئے۔سیرالیون ، غانا اور نائیجیریا میں یہ فرقہ مضبوطی کے ساتھ قائم ہو چکا ہے جہاں اس کے تعلیمی ادارے باقاعدگی کے ساتھ ہزاروں مسلمانوں کو انگریزی اور عربی کی تعلیم دے رہے ہیں " سے کتاب مذهبی تحریکات ہند کے مؤلف مسٹرایم جے آغا، مسٹرایم جے آغا آن جنجہ مشرقی افریق آنا ( M۔J۔AGHA ) آف پنجہ مشرقی افریقہ لکھتے ہیں احمدی جماعت کے موجودہ سربراہ میاں محمود صاحب نے دیگر ممالک میں بھی مشن قائم کئے۔اور احمدی مخلصین نے غیر ممالک میں اشاعت اسلام کے نام پر دل کھول کو مالی قربانیاں پیش کیں جس کا تیجہ یہ ہوا کہ جماعت نے اپنی تبلیغی سرگرمیاں تیز تر کر دیں۔چنانچہ گذشتہ پچاس سال کے عرصہ میں دنیا کے مختلف ممالک میں ان کے مشن عیسائی مبلغین کے مقابلے میں محدود ذرائع کے باو جودا اچھا کام کر رہے ہیں۔ان کے مقابلے میں اہلسنت والجماعت کے لوگ سواد اعظم کی حیثیت سے پچاس کروڑ کی تعد اد میں ہیں، وسیع ذرائع اور وسائل کے باوجود ان کے دل میں تبلیغ اسلام کا کبھی خیال نہیں آیا " مسٹر ایم جے آنا تحریک جدید کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں :۔اس شعبہ میں ایسے تعلیم یافتہ نوجوان شامل ہیں جو مروجہ علوم کے علاوہ دینی تعلیم کی بھی واقفیت رکھتے ہیں اور مغربی ممالک میں عیسائیت کے مقابلے میں اسلام کو بحیثیت دین پیش کرتے ہیں۔واقعی یہ بڑا کٹھی اور صبر آزما کام ہے جس کے لئے جانی اور مالی قربانیوں کی ضرورت ہے۔لیکن احمدی لوگ بڑی توجیہ اور جذبہ کے ساتھ اس فریضہ کی ادائیگی میں حصہ لیتے ہیں جیسی سے بیرونی ممالک میں مسجدیں ، مدر سے اور تبلیغی مرکز قائم کئے جاتے ہیں اور قر آن مجید کے تراجم مختلف زبانوں میں شائع کر کے تقسیم کئے جاتے ہیں۔عیسائی مبلغین کے مقابلے میں احد یہ فرقہ کی تبلیغی مہماعی قابل داد ہیں کیونکہ ان کے ذرائع عیسائیوں کے مقابلے میں بہت کم اور بالکل محدود ہیں مسلمانوں میں سوائے مصری اور چند ایک دیگر تبلیغی جماعتیں شاد بجوانه رساله " تحریک جدید " بابت مستمبر ۱۹۶۵ء صفحه ۱۴ +