تاریخ احمدیت (جلد 7)

by Other Authors

Page 125 of 742

تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 125

ٹریننگ دے جامعہ البیشترین سالہا سال تک مستقل ادارہ کی صورت میں قائم رہنے کے بعد، جولائی شد کو جامعہ احمدیہ میں مدغم کر دیا گیا۔تحریک جدید کے مستقل شعبوں کیلئے ضروری منشور میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے اپنے قسیم مبارک سے تحریک بدید کے مختلف شعبوں کے لئے ایک حضرت خلیفتہ اسیح الثانی کا دستور العمل مفصل دستور العمل تجویز فرمایا جس کی تفصیل خود حضور کے الفاظ میں درج ذیل کی جاتی ہے:۔حضور نے تحریر فرمایا :- " تحریک جدید کے سردست مندرجہ ذیل وکلاء ہوں۔وکالت مال (1) وکیل المال اقول (۲) وکیل المال ثانی (۳) وکالت جائیداد وکیل المال اول چوہدری برکت علی صاحب ، وکیل ثانی قریشی عبدالرشید صاحب ہوں گے، تیرا وکیل تجویز کیا جائے گا۔اس کا کام بجٹ بنانا ، اس کی نگرانی کرنا ، روپیہ جمع کرنا ، مبادلہ زر کے ماہرین کے ذریعہ سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اُٹھانا ، بھائیداد کی نگرانی ، امانت اور جائز بینکنگ کے طریقوں کا راہی کرنا۔وکالت دیوان۔اس وکالت کا اصل کام مجلس وکالت کے سکرٹری کا ہوگا مجلس بلواتا، اس کی کاروائی کا ریکارڈ کروانا، مختلف وکالتوں میں تعاون قائم رکھوانا اور ادارہ جاتی مجالس بلوانا۔یعنی مجلس وکالت کے علاوہ جب ضرورت ہو ، جب کام خواب ہو رہا ہو ، تعاون میں کمی آئے یا ترقی کی تجاویز کا تقاضا ہو تو ایک سے زیادہ وکلاء کو بلوا کر کوئی ایسی سکیم تیار کو وانا جس میں ایک سے زیادہ وکلاء کی شمولیت کی ضرورت ہو۔وکالتوں کے لئے عملہ کا فیصلہ کہ اتنا در کانہ ہو گا اور اتنے اتنے عرصہ کے بعد اس کے بدلنے کی ضرورت ہوگی وغیرہ وغیرہ اور حسب ضرورت نئے آدمی لینا اور ان کی تعلیم و تربیت (کرنا) اس وکالت کا ایک نائب وکیل الدیوان ہو گا میں کے سپرد کام کا ایک چھہ ہو گا۔اس وکالت پر سر دست دو افسر ہوں گے (۱) مولوی عبد الرحمن صاحب اور پرانے تجربہ کی وجہ سے ورنہ میں علم کی اس میں ضرورت ہے وہ ان کو نہیں۔دوسرا وکیل میں مقرر کروں گا۔نائب وکیل محمد شریعت خالد صاحب۔!