تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 96
کی جاتی ہے۔حضور نے فرمایا :- میری کوشش یہ ہے کہ اس دور میں سو واقفین زندگی ایسے تیار ہو جائیں جو علاوہ مذہبی تعلیم رکھنے کے ظاہری علوم کے بھی ماہر ہوں اور سلسلہ کے تمام کاموں کو محزم و احتیاط سے کرنے والے اور قربانی کو ایثار کا نمونہ دکھانے والے ہوں۔اس غرض کے لئے تعلیمی اخراجات کے علاوہ ہمیں ان لوگوں کو گزارے بھی دینے پڑیں گے اور یہ گزارہ پندرہ روپے فی کس مقرر ہے۔اگر ایک گریجوایٹ بھی ہو تو اُسے بھی ہم پندرہ روپے ہی دیتے ہیں زیادہ نہیں اور یہ آنافیل گذارہ ہے کہ بعض بیتائی و مساکین کے وظائف اسی کے لگ بھگ ہیں، مگر با وجود اس کے کہ گزارہ انہیں آنا تھوڑا دیا جاتا ہے جتنا بعض بنائی اور سین کو بھی ملتا ہے وہ کام بھی کرتے ہیں اور انہوں نے اپنی تمام زندگی خدمت دین کے لئے وقت کی ہوئی ہے۔سردست سہارا قانون یہ ہے کہ اگر ان میں سے کسی کی شادی ہو جائے تو اُسے نہیں روپے دیئے جائیں اور پھر بچے پیدا ہوں تو نی بچہ تین روپے زیادہ کئے جائیں اور اس طرح بچا نہ بچوں تک یہی نسبت قائم رہے۔گویا ان کے گزارہ کی آخری حد بتیس روپے ہے مگر یہ بھی اس وقت ملیں گے جب ان کے گھروں میں چھ کھانے والے ہو جائیں۔میں سمجھتا ہوں کہ یہ گزارہ کم ہے۔اسی طرح بچوں کی حد بندی کرتی بھی درست نہیں اور اُسے جلد سے جلد دور کرنا چاہئیے مگر فی الحال ہماری مالی حالت چونکہ اس سے زیادہ گزارہ دینے کی متحمل نہیں اس لئے ہم اس سے زیادہ گزارہ نہیں دے سکتے۔اور انہوں نے بھی خوشی سے اس گزارہ کو قبول کیا ہے۔" منتخب واقعین کی تعلیم و تربیت کے سلسلہ میں حضرت خلیفہ المسیح الثانی اور دفتر منتخب واقفین کیلئے ہدایا تحریک جدید کی طرف سے جو ہدایات وقتاً فوقتاً بھاری کی بھاتی رہیں ان کا خلاصہ درج ذیل کیا جاتا ہے :۔ا صحت صحت سے نہیں ہوتی بلکہ بشاشت سے ہوتی ہے۔اپنی ذمہ داری کو محسوس کرتے رہنا چاہیئے اور جب اپنے آپ میں محسوس ہو کہ اب میں فرائض معاہدہ کو ادا نہیں کر سکتا تو اسے اسی وقت علیحدہ ہو جانا چاہیے۔ترقی کرنے والی قومیں محض روز مرہ کے کام سے نہیں ترقی کرتیں کیونکہ اس کی عرض تو محض قومی زندگی قائم رکھنا ۱۹۳۸ به " الفصل "٢٧ نومبر ١٩٣٥ و صفحه ١٠۔|-