تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 90
۸۲ کی طرف سے ایک قسم کا اندار ہے کہ سب حالات پر غور کر کے نہیں سمجھ لینا چاہئیے کہ اس قسم کی مشکلات بھی تبلیغ کے رستہ میں حائل ہوں گی۔مونی عبد القدیر صاحب تحریک جدید کے تجارتی صیغہ کے نمائندہ تھے۔گویا وہ با قاعدہ مبلغ نہیں تھے اور ابھی زبان ہی سیکھ رہے تھے اور اب تو اُن کی واپسی کا حکم بھی جاری ہو چکا تھا کیونکہ دوسرے مبلغ یعنی مولوی عبد الغفور صاحب برادر مولوی ابو العطار صاحب وہاں جا چکے ہیں۔تو تجارتی اغراض کے ماتحت بھانے والے ایک احمدی کے لئے جب اس قدر مشکلات ہیں تو تبلیغ کے لئے بھانے والوں کے لئے کس قدر ہوں گی جہانتک معلوم ہو سکا ہے۔ان پر الزام یہ لگایا گیا ہے کہ وہ جاپانی گورنمنٹ کے مخالف ہیں۔اور یہ بھی ہمارے لئے ایک نیا تجربہ ہے۔انگریز نہیں کہتے ہیں کہ تم ہمارے خلاف ہو اور دوسری حکومتیں یہ کہتی ہیں کہ تم انگریزوں کے خیر خواہ ہو۔بہر حال یہ سب نئے تھر بے ہیں جو ہمیں حاصل ہو رہے ہیں اور ان سے پتہ لگ سکتا ہے کہ کیس کہیں قسم کی رو کا وٹیمیں ہمارے رستہ میں پیدا ہونے والی ہیں۔پھر ایک نیا تجربہ یہ ہوا ہے کہ امریکن گورنمنٹ نے ہمارے مبلغ محمد ابراہیم صاحب ناصر کو اس بناء پر داخل ہونے کی اجازت نہیں دی کہ وہ ایک سے زیادہ شادیاں کرنے کے قائل ہیں تو ہمیں ان مبلغوں کے ذریعہ سے نئی نئی مشکلات کا علم ہوا ہے۔ان کے علاوہ اور بھی کئی باتیں ہیں جن سے جماعت کے اندر بیداری پیدا ہوئی ہے۔سادہ زندگی ہے، بینیما تھیٹروں وغیرہ کی مانعت ہے۔اپنے ہاتھ سے کام کرنے کا حکم ہے۔اس سے قوم میں نئی روح پیدا ہوتی ہے فصل شتم تحریک جدید کا دوسرا ہفت ساله) دور ۲۶ نومبر کو تحریک جدید کا دوسرا ہفت سالہ دور شروع ہوا جو ا پریل ماہ تک جاری رہا۔۱۹۳۷ راه خطبه جمعه فرموده ۱۵ نومبر ۱۹۳۷ء مطبوعه الفضل " ۱۸ نومبر ۹۳ و صفحه ۵-۹۶