تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 86
اور اس نے کہا کہ اگر مباہلہ ہو گیا تو یقینا خدا مجھے شفا دے گا اور یہ ہو نہیں سکتا کہ لیکن اس مرض سے مر جاؤں۔بہر حال اس واقعہ سے اس کا اخلاص ظاہر ہے۔اسی طرح اُس کی دور اندیشی بھی ثابت ہے کیونکہ اس نے ایک اور نوجوان کو خود ہی تحریک کی کہ میرے ساتھ پھلو اور وہ تیار ہو گیا۔اس طرح کو عدالت فان قوت ہو گیا ہے مگر اللہ تعالٰی نے اس کے بیج کو ضائع نہیں کیا بلکہ ایک دوسرے شخص نے بھے وہ اپنے ساتھ لے گیا تھا، احمدیت کے جھنڈے کو پکڑ کہ آگے بڑھنا شروع کر دیا اور مشرقی شہر کا شعر میں پہنچ گیا اور وہاں تبلیغ شروع کر دی نتیجہ یہ ہوا کہ وہاں کے ایک دوست کو اللہ تعالیٰ نے احمدیت میں داخل ہونے کی توفیق عطا فرما دی بھاجی جنود اللہ صاحب ان کا نام ہے۔وہ اسی تبلیغ کے نتیجہ میں قادیان آئے اور تحقیق کر کے احمدیت میں شامل ہو گئے۔پھر کچھ عرصہ بعد حاجی نبود اللہ صاحب کی والدہ اور ہمشیر بھی احمدی ہوگئیں اور اب تو وہ قادیان ہی آئے ہوئے ہیں۔تو عدالت خساں کی قربانی رائیگاں نہیں گئی بلکہ احمدیت کو اس علاقہ میں پھیلانے کا موجب بن گئی۔ید ایسا علاقہ ہے جس میں احمدیت کی اشاعت کا خیال بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ایسے ایسے خطر کاپ اور دشوار گذار رستے ہیں کہ اُن کو عبور کرنا ہی بڑی ہمت کا کام ہے۔حاجی جنود اللہ صاحب کی والدہ نے بتایا کہ رستہ میں ایک مقام پر وہ تین دن تک برف پر گھٹنوں کے بل ملتی رہیں۔ایسے سخت ریستوں کو عبور کر کے ہماری جماعت کے ایک نوجوان کا اس علاقہ میں پہنچنا اور لوگوں کو تبلیغ کرنا بہت بڑی خوشی کی بات ہے۔تو تحریک جدید کے ماتحت اللہ تعالیٰ نے عدالت حال کو پہلے یہ توفیق دی کہ وہ افغانستان جائے چنانچہ وہ افغانستان میں کچھ عرصہ رہا اور جب واپس آیا تو میری تحریک پر وہ چین کے لئے روانہ ہو گیا اور خود ہی ایک اور نوجوان کو اپنے ساتھ شامل کر لیا۔راستہ میں عدالت خاں کو خدا تعالیٰ نے شہادت کی موت دے دی مگر اس کے دوسرے ساتھی کو اس امر کی توفیق عطا فرمائی کہ وہ آگے بڑھے اور مشرقی ترکستان میں جماعت احمدیہ قائم کر د ہے۔یہ دو واقعات شہادت بتاتے ہیں کہ گو یہ اپنی جد و جہد میں کامیاب نہیں ہوئے مگر ان کی کوششیں اللہ تعالیٰ کے نزدیک مقبول تھیں چنانچہ ان دو آدمیوں میں سے ایک کے تو اللہ تعالیٰ نے عملی انگ میں شہادت دے دی اور دوسرے کی وفات ایسے رنگ میں ہوئی جو شہادت کے ہمرنگ ہے" ے رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۳۹ صفحه ۶۸۴