تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 570
Org في الحال اتنا عرض کرنا ضروری ہے کہ میں فی الحال آپ کے خیالات کا جو بہ نسبت مرزا قا ن ہیں مخالف ہوں جس کے متعلق تبادلہ خیالات کا متمنی اور متقاضی ہوں۔علاوہ ازیں جو ضرورت قرآن کریم پر آپ نے دلائل قائم کئے تھے کیا وہ آپ مجھے ارسال فرما کر ممنون فرمائیں گے؟ 0" مباحثہ کراچی : ―; کراچی میں اس سال بھی ۱۷-۱۸ / اپریل ۹۳۱ہ کو جماعت احمدیہ کا آریہ سماج سے دو موضوع پر مناظرہ ہوا۔وانی کیا دید دھرم عالمگیر ہے دیا مین باشد معمار عمر صاحب فاضل د پنڈت رام چنڈ صاحب) کیا اسلام عالمگیر مذہب ہے " (موادی جو انتظار صاحب فاضل ونڈت رام چنڈ صاحب) آریہ سماجی مناظر کو ان مناظروں میں شکست فاش ہوئی۔جس کی شفت پر پردہ ڈالنے کے لئے آریوں نے احمدیوں کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئیوں کے موضوع پر مناظرہ کا چیلنج دے دیا۔اس پر مولوی ابو العطاء صاحب نے اعلان فرمایا کہ ہاں ہم ہر وقت تیار ہیں۔آپ آج ہی اسی وقت اور اسی پنڈال میں کر لیجیئے۔اور پنڈت دیکھرام سے متعلق بحث کے لئے بھی تیار رہیے ہے مگر آریوں کو مرد میدان بننے کی جرات نہ ہوسکی۔مباحث الكهنو : جون شاہ میں مولوی عبد المالک خان صاحب اور پنڈت و زیانید صاحب آن کانشی کا چھاؤنی لکھنو میں مناظرہ ہوا۔موضوع بحث تھا۔کیا دید کے دھرم اشوری دھرم ہے ؟ مولوی شما نے ثابت کیا کہ آریہ دھرم اب ایک بجھا ہوا چراغ اگر کھایا ہوا پھول اور اجڑا ہوا ابستان ہے جس کی پیروی میں اب خدا سے شرف مکالمہ و مخاطبہ پا نا ممکن نہیں۔آریہ مناظر صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر لا تعلق اور بے بنیاد اعتراضات شروع کر دیئے جس پر مسلمانوں نے پر کہا کہ وہ اس طرح مسلمانوں میں افتراق و انتشار پیدا کرنے کی کوشش صرف اس لئے ه روزنامه الفضل تادیان ۴۳ در اپریل ۱۹۳۹ ۶ صفحریه ۱۲ افضل ۲۶ ۱ اپریل ۹۳۷ د منفجر ۹ کالم ۲۰۱ ۱۳۹۶ را ماده