تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 488
تیجه کلان شکار یا چھیاں سیالکوٹ شہر دانہ زید کا گٹھیالیاں۔امرتسر لاہور جانا ہر گریام ہوشیار پور کی یہاں۔گوجرانوالہ گجرات۔لائل پور - دنیا پور ضلع مان - حیدرآباد دکن ، کراچی رہی۔خیر اور سند در شملہ سید والا پہلول پور ضلع لائلپور ڈلہوزی بمبئی۔پشاور بریلی سے میں اجتماع کی ایک خصوصیت یہ تھی کہ اس میں شامل ہونے والے خدام میں سے مجلس خدام الاحمدیہ لاہور کے ایک رکن مرزا محمد سعید بیگ صاحب ولد مرز امحمد شریف بیگ صاحب نے لاہور سے قادیان آتے ہوئے مجلس کے جھنڈا کی حفاظت کے لئے شجاعت و بہادری کاستاندار نمونہ دکھایا۔اور دوسرے خدام بھائیوں کے سامنے شعائر اللہ کے تحفظ کی قابل تقلید مثال قائم کی۔اس اجمال کی تفصیل خود حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کے الفاظ میں درج کی جاتی ہے۔حضور نے ۲۳ اکتوبر ۱۹۴ء کے خطبہ جمعہ میں ارشاد فرمایا :- واقعہ یہ ہے کہ لاہور کے خدام جب جلسہ میں شمولیت کے لئے آرہے تھے تو اس وقت جب کہ ریل سٹیشن سے نکل چکی تھی اور کافی تیز ہوگئی تھی ایک لڑکے سے جس کے پاس جھنڈا تھا ایک دوسرے خادم نے جھنڈا ما نگا۔وہ لڑکا جس نے اس وقت جھنڈا پکڑا ہوا تھا ایک چھوٹا بچہ تھا۔اس نے دوسرے کو جھنڈا دے دیا اور یہ سمجھ لیا کہ اس نے جھنڈا پکڑ لیا ہے۔گر واقعہ یہ تھا کہ اس نے ابھی جھنڈے کو نہیں پکڑا تھا۔اس قسم کے واقعات ہو جاتے ہیں۔گھروں میں بعض دفعہ دوسرے کو کہا جاتا ہے کہ پہائی یا گلاس پکڑا اور اور دوسرا برتن اٹھا کر دے دیتا ہے اور یہ خیال کرلیتا ہے کہ اس نے پانی یا گلاس کو پکڑ لیا ہوگا۔مگر اس نے ابھی ہاتھ نہیں ڈالا ہوتا۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہر تین گر جاتا ہے۔اسی طرح جب اُس سے جھنڈا مانگا گیا اور اُس نے جھنڈا دوسرے کو دینے کے لئے آگے بڑھا دیا تو اُس نے خیال کیا کہ دوسرے نے جھنڈا پکڑ لیا ہوگا۔مگر اس نے ابھی پکڑا نہیں تھا۔نتیجہ یہ ہوا کہ جھنڈا ریل سے باہر جا پڑا۔مجھے بتایا گیا ہے کہ وہ چھوٹا لڑکا جس کے ہاتھ سے جھنڈا گرا تھا فورا نیچے کودنے لگا۔مگیر وہ دوسرا لڑکا جس نے جھنڈا مانگا تھا اسے اسے فورا روک لیا اور خود نیچے چھلانگ لگا دی۔لاہور کے خدام کہتے ہیں ہم نے اُسے اُوندھے گرے ہوئے دیکھ کر سمجھا کہ وہ مرگیا ہے۔گر فورا ہی اٹھا اور جھنڈے کو پکڑ لیا۔اور پھر دیل کے پیچھے دوڑ پڑا۔یہ تو وہ کیا پڑ سکتا تھا۔بعد میں کسی دوسری سواری میں بیٹھ کر اپنے قافلہ سے آیا۔میں سمجھتا ہوں اس کا یہ فل نہایت ہی اچھا ہے اور اسقابل ہے کہ اس کی تعریف کی جائے۔امام احمد شیر اس لیے مام مقر کا تھا ا تجویز کیا تھا کہ اسے ایک تمغہ دیا جائے۔مگر اس وقت یہ روایت میرے پاس غلط طور پر پہنچی i مامه الفضل اور اکتوبر ۱۹۳۳ء صفحده۔