تاریخ احمدیت (جلد 7) — Page 368
۳۵۵ ۲۶ جولائی ان کو شیخ صاحب حضرت سیدنا محمود کی ذاتی جد و جہد اور آپ کی تحریک انصار اللہ " کے خرچ پر حصول تعلیم کے لئے مصر بھیجے گئے۔مصر میں قیام کے عرصہ میں حضرت خلیفہ المسیح الاول نے شیخ صاحب کو ایک مکتوب میں یہ تحریر فرمایا کہ "تمہیں وہاں سے کسی شخص سے قرآن پڑھنے کی ضرورت نہیں جب تم واپس قادیان آؤ گے تو ہمارا علم قرآن پہلے سے بھی انشاء اللہ تعالیٰ بڑھا ہوا ہوگا۔اور اگر ہم نہ ہوئے تو میاں محمود سے قرآن پڑھ لینا لاد ازین تو شیخ صاحب بھی اس یقین پر قائم تھے کہ حضرت خلیفہ المسیح الاول " کے بعد پوری جماعت میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمد احمد صاحب ہی کی مقدس شخصیت ہر اعتبار سے ممتاز و منفرد حیثیت رکھتی ہے۔چنانچہ انہوں نے قیام مصر کے دوران حضرت سیدنا محمود کے حضور ایک مکتوب میں لکھا کہ - جس طرف حضرت خلیفہ مسیح یا آپ مجھے لگائیں گے میں تو وہی کام کروں گا۔میں نے اپنا معامہ اپنی مرضی پر نہیں رکھا ہوا۔دین اسلام کی خدمت کرنا میری غرض ہے۔اس غرض کے مناسب کام کو تجویز کرنا میں نے اپنی عقل اور فکر پر نہیں چھوڑا ہوا بلکہ آپ کے سپرد ہے کیونکہ میں کامل یقین پر پہنچا ہوا ہوں ہمیں کام پہ آپ لگائیں گے وہ دینی خدمت ہے۔دین کا جوش اور غم جو آپ کو ہے اور کسی کو نہیں اور نہ ہی میں آپ کے سوا کسی کو اس کا اہل پاتا ہوں۔اس لئے میں نے آپ کے ساتھ مل کر کام کرنا ہے اور جہانتک میری مقدرت میں ہے انشاء اللہ تعالئے آپ کا ہاتھ بٹاؤں گا۔میں نے مدرسہ احمدیہ میں اس واسطے کام نہیں شروع کیا تھا کہ روپیہ کماؤں بلکہ ایک دینی خدمت تھی اور یہ دیتی خدمت بھی تب تک ہی دینی خدمت ہے جب تک کہ آپ کا وجود باجود اس مدرسہ میں ہے کیونکہ یہ تو ظاہر ہے کہ اگر آپ کا تعلق اس مدرسہ سے نہو تو کیا امین اس مدرسہ کی طرف توجہ کرلے گی جیسی کہ اب کرتی ہے۔انجمین کو تو اس مدرسہ کی ضرورت ہی نہیں محسوس ہوتی۔یہ تو آپ کی وجہ سے قائم ہے اور اگر آپ کسی وجہ سے اپنا تعلق اس سے ہٹائیں اور اسی غرض کو کسی اور ذریعہ سے پورا کرنا چاہیں تو پھر کیا میں اس حالت میں جبکہ پانچ سال کے لئے اپنے آپ کو قید میں ڈال چکا ہوں گا ، اپنے آپ کو آپ کی خدمت میں پیش کر سکتا ہوں اور آپ کے ساتھ مل کر کام کر سکتا ه به خط " الفضل " یکم اپریل ۱۹۱۲ صفحہ ۲۱ کالم میں شائع شدہ ہے۔