تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 171
تاریخ احمدیت۔جلده 141 میں رہے اور حضرت مولانا راجیکی کی صحبت میں تبلیغی میدان کے لئے عملی تربیت حاصل کی اور اس طرح لائل پور کو روحانی و تبلیغی اعتبار سے ایک رنگ میں تربیتی مرکز کی سی حیثیت بھی حاصل ہو گئی۔MIZ مسجد فضل لائل پور کے لئے کتبہ اس مسجد کا نام حضور نے مسجد فضل تجویز فرمایا تھا اور اس کے لئے اپنے قلم مبارک سے کتبہ کے مندرجہ ذیل الفاظ تحریر فرمائے تھے۔جو تاریخی یاد گار کے طور پر آج تک دیوار مسجد پر کنندہ ہیں۔بسم الله الرحمن الرحیم نحمده ونصلى على رسوله الكريم خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ هو الناصر الی ! اس مسجد کی بنیاد اللہ تعالیٰ کے تقویٰ پر ہو۔اور اس میں نمازیں پڑھنے والے ہمیشہ تیری رضا کو دوسری سب چیزوں پر مقدم رکھیں۔میں تیرے فضل سے امید رکھتے ہوئے اس مسجد کا نام مسجد فضل رکھتا ہوں۔اے میرے رب! میری اس امید کو پورا کر اور اس مسجد کو اپنے فضل کا مقام بنا۔اس سے تعلق رکھنے والوں اور اس میں نمازوں کی مداومت کرنے والوں کو اپنے بڑھنے والے فضل سے حصہ دیتارہ اور اسے اپنے دین کی اشاعت کا اس علاقہ کے لئے مرکز بنا- اللهم آمین۔میرزا بشیر الدین محمود احمد MIA ۲۲ / ذی الحجہ ۱۳۵۲ھ مطابق ۷ / اپریل ۱۹۳۴ء بروز افتتاح سفر لائل پور کے تاثرات سیدنا حضرت سیدنا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے لا کل پور امیرالمومنین کی زبان مبارک سے سے واپسی پر اس سفر کے تاثرات ان الفاظ میں " بیان فرمائے۔مجھے اپنی خلافت کے ایام میں پہلی مرتبہ اس قسم کا سفر در پیش ہوا۔جیسا کہ گزشتہ ہفتہ میں لائلپور کا پیش آیا تھا اور میں اس سفر سے اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ جہاں ایک طرف مخالفت دوروں پر۔۔۔وہاں لوگ ہماری باتیں سننے پر آمادہ بھی ہیں اور وہ خواہش رکھتے ہیں کہ کوئی انہیں سلسلہ کے حالات سے واقف کرے۔میرے لائل پور جانے کے موقعہ پر ہر رنگ میں مخالفین کے رؤساء نے کوششیں کیں کہ کسی طرح لوگ اس طرف توجہ نہ کریں۔مگر باوجود اس کے کہ وہاں کی مقامی جماعت نہایت قلیل ہے اور