تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 78 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 78

تاریخ احمدیت۔جلد ۷ LA تعجب ہوا کہ اس مرتبہ بعض ان ہی مسلم علماء نے اس جلسہ سے اپنے قولی و عملی اختلاف کا اظہار کیا جو سالہائے گزشتہ اس مبارک جلسہ کے سلسلہ میں پیش پیش نظر آتے تھے۔ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ مذہبی حیثیت سے ایک سال قبل اس جلسہ کی شرکت کیونکر جائز تھی اور ایک سال بعد کیونکر حرام ہو گئی۔بہرحال اس جلسہ کے مقاطعہ کے لئے جو اعتراضات پبلک تک پہنچائے جا رہے تھے وہ یہ تھے کہ اس جلسہ کے بانی قادیانی ہیں۔یہ دراصل کوئی اعتراض نہیں بلکہ اظہار واقعہ ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ ببانگ دہل یہ الفاظ بھی سنے گئے کہ لکھنو کے تمام علماء نے متفقہ طور پر اس جلسہ کا بائیکاٹ کیا ہے لہذا کوئی مسلمان اس میں شریک نہ ہو۔کوئی وجہ کوئی دلیل اور کوئی سبب بیان نہیں کیا جا رہا تھا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جلسہ میں جوق در جوق ہندو اور مسلمان سب شریک ہوئے۔گو کہ ان کو جلسہ گاہ کے ہر دروازہ پرمذموم قسم کی پکینگ کے ذریعہ روکنے کی بھی کوشش کی گئی اور غلط فہمیاں بھی پیدا کرائی گئیں۔مثلاً تمام علماء اس جلسہ کے مقصد کو مسلمانوں کے لئے مضرت رساں سمجھتے ہیں۔اور اسی وجہ سے منشی محمود علی صاحب صدر منتخب نے استعفاء بھی دے دیا وغیرہ وغیرہ لیکن ایک طرف سے شائقین جلسہ کا ہجوم تھا دو سری طرف وہ لوگ بھی جلسہ کی شرکت کے لئے مجبور ہو رہے تھے جن کی سمجھ ہی میں نہ آتا تھا کہ ایک خالص مذہبی تقریب مذہب کے لئے کس طرح مضرت رساں ہو سکتی ہے۔بہر حال ہم کو اس اختلاف پر کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن اختلاف کی جو صورت اختیار کی گئی مثلاً شرکائے جلسہ پر آوازے کرنا۔زنانہ نشست میں پتھر بازی کرنا اور جلسہ کے باہر سڑک پر غنڈوں کی طرح غل مچانا وغیرہ یہ ہمارے نزدیک نہ صرف قابل اعتراض ہے بلکہ انتہائی شرمناک ہے جس سے خود مخالفوں کی پوزیشن پر برا اثر پڑتا ہے۔خصوصاً ایسی حالت میں جبکہ باوجود اس کے جلسہ کامیاب ہوا۔اور یہ تمام مضحکہ خیز کوششیں ناکام ہونے کے علاوہ اور کچھ نہ ہو سکیں۔پھر سب سے زیادہ عجیب بات یہ ہوئی کہ جلسہ کے اختتام پر تمام حاضرین جلسہ یہی کہتے ہوئے اٹھے کہ اس جلسہ کی مخالفت اب تک ہماری سمجھ میں نہیں آئی۔اور جو اعتراضات مخالفین جلسہ اٹھا رہے تھے ان میں سے ہم نے ایک کو بھی صحیح نہیں پایا۔اس موقع پر ہم بانیان جلسہ کو مبارکباد دیئے بغیر نہیں رہ سکتے۔جنہوں نے نہایت سکون کے ساتھ اس تمام مضحکہ خیز مخالفت کا مقابلہ کیا اور اپنی طرف سے مدافعانہ کوئی کارروائی نہ ہونے دی یہاں تک کہ مخالف اپنی ناکامی سے خود ہی تھک گئے "۔184- روزنامہ ”ہمدم " نے لکھا۔