تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 76
تاریخ احمدیت۔جلد ۶ بمقام شملہ پے در پے تین تار پہنچے ان سے یہ واقعہ معلوم ہوا۔اس وقت دو باتیں کی گئیں جو چلے آئے تھے۔ان کے لئے قیام و طعام کی فکر کی گئی اور ان کو سمجھایا گیا کہ اب چلے آئے ہو تو کچھ غربت برداشت کرد - کیونکہ اگر اسی طرح بے ترتیب اور بے تصفیہ نزاع واپس جاؤ گے تو پہلے سے زیادہ ذلت و نقصان اٹھاؤ گے اور جو ابھی نہیں آئے تھے ان کو روکا گیا۔وائسرائے صاحب کے ہاں وفد کی پیشی کے وقت یہ توقع تھی کہ پولٹیکل سیکرٹری ضرور موجود ہو گا چودھری ظفر اللہ خان صاحب نے جن کو وفد کشمیر کا تجربہ تھا یہی بتایا۔مگر جب وفد پیش ہوا تو دیکھا کہ وائسرائے صاحب کے ساتھ صرف پرائیویٹ سیکرٹری ہے تاہم ہم نے وائسرائے صاحب سے درخواست کی کہ تمام مواد پولٹیکل سیکرٹری ہم سے لیں اور وائسرائے صاحب کے لئے نوٹ تیار کریں۔چنانچہ یہ درخواست منظور کی گئی اور اس کے مطابق ۱۳/ اکتوبر کو میں مسٹر گلینسی سے بمقام شملہ ملا اور سوا گھنٹہ تک ان سے مکالمہ ہو تا رہا۔ان کو بہت سا مواد دیا گیا۔اور جہاں تک ہو سکا ان کے شکوک کو رفع کرنے کی کوشش کی گئی۔تاحال یہ معلوم نہیں کہ انہوں نے کیا نوٹ لکھا۔۱۷/ اکتوبر کو سر محمد اقبال نے وائسرائے کو تار بھی دیا کہ پولیٹکل سیکرٹری کو ۱۳ / اکتوبر کو مواد دیا جا چکا ہے اب جلد فیصلہ ہونا چاہئے۔تاحال کوئی نتیجہ معلوم نہیں ہو انگر مختلف واقعات سے ثابت ہو تا ہے کہ الور راج بہت سراسیمہ اور مضطرب ہے میں آپ کی نوازش کا مکرر شکریہ ادا کرتا ہوں۔زیادہ نیاز - والسلام بندہ غلام بھیک نیرنگ بی۔اے ایل ایل بی ایڈووکیٹ ہائیکورٹ لاہو ر و جنرل سیکرٹری سینٹرل۔جماعت تبلیغ الالسلام -