تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 75
تاریخ احمد بیت - جلده 40 مسلمانان الور کی امداد ریاست الور کے بہت سے مسلمان ریاستی مظالم کی تاب نہ لاکر جے پور اجمیر شریف بھرت پور اور ضلع گوڑ گاؤں اور دہلی وغیرہ مقامات میں آگئے تھے۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی کو جب ان کے حالات کا علم ہوا۔تو مظلوموں کی اعانت کے لئے سید غلام بھیک صاحب نیرنگ ایڈووکیٹ ہائیکورٹ لاہو رو جنرل سیکرٹری سنٹرل جماعت تبلیغ الاسلام کو دوسو روپے ارسال فرمائے۔اسی طرح مرکز کی طرف سے افسران بالا سے خط و کتابت کی گئی۔افسروں نے نہایت ہمدردی سے غور کیا اور ریاست کے متعلق حکام کو ہدایت کی کہ وہ مسلمانوں کے مطالبات کا پورے طور پر خیال رکھیں اور ان کی شکایات کا تدارک کریں۔اس کے شکریہ میں نیرنگ صاحب نے انبالہ شہر سے ۲۲/ اکتوبر ۱۹۳۲ء کو حضور کی خدمت میں مندرجہ ذیل خط لکھا۔انباله شهر ۲۲/۱۰/۳۲ عالی جناب مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب امام جماعت احمدیہ قادیان مکرم و محترم و علیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ مزاج گرامی ! نوازش نامه (بلا تاریخ) نوشته از مقام ڈلہوزی باعث مسرت ہوا۔اس کے بعد لائیڈ زینک لاہور نے آپ کے حکم کے مطابق مبلغ دو صد روپے کا ڈرافٹ بنام امپیریل بنک انبالہ بھیجا۔میں چونکہ سفر میں تھا اس لئے نوازش نامہ کے جواب اور ڈرافٹ مذکور کی رقم کی وصولی آج تک ملتوی رہی۔آج بنک سے رقم وصول ہو گئی اور لائیڈ زینک کو بھی ڈرافٹ کی وصولی کی اطلاع دی گئی جناب کے عطیہ کی رسید ضابطہ ملفوف ہے۔جزاکم الله فی الدارين احسن الجزاء مجھ کو معلوم ہے کہ بحالات موجودہ آپ امداد مہاجرین الور کے لئے خاطر خواہ رقم بھیجنے میں خاص وقت محسوس فرماتے ہیں مگر در حقیقت جو رقم آپ نے بھیجی وہ بجائے خود معقول ہے اور آپ کی اس ہمدردی کا ایک بین ثبوت جو آپ کو مظلوم مسلمانان الور سے ہے۔ان لوگوں کی ہجرت کے بارہ میں جو خیالات آپ نے ظاہر فرمائے وہ بالکل درست ہیں در حقیقت ان لوگوں نے ایک حالت ناچاری و مایوسی میں بلا مشورہ مسلمانان بیرون ریاست یکایک ہجرت کی۔اگر مشورے کا موقعہ ملتا تو یا تو ان کو روکا جاتا ورنہ ان کے لئے پہلے سے معقول انتظام ہو تا وہ بھی جانتے کہ ہم نے کہاں جاتا ہے اور ہم بھی جانتے کہ ان کے واسطے کیا انتظام ہے یہ لوگ محض سراسیمگی کے عالم میں جے پور - اجمیر شریف۔بھرت پور - آگے ضلع گوڑ گاؤں دہلی وغیرہ مقامات میں جہاں جہاں جس کے سینگ سمائے چلے گئے اور مجھ کو تو یکا یک