تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 74
تاریخ احمدیت۔جلد ۶ کہ میں خود یہ کام سرانجام دوں۔چنانچہ میں فورا دہلی روانہ ہو گیا۔امیر جماعت احمد یہ دہلی کے تعاون اور کوشش سے بارہ گھنٹے کے اندر اندریہ میمورنڈم چھپ گیا جسے لے کر میں گورنر صاحب کے آنے سے پہلے حصار پہنچ گیا۔چونکہ اخبارات کو اس میمورنڈم کی نقول میں نے بھیجوادی تھیں اس لئے گورنر صاحب کو میمورنڈم پیش کرنے کے ساتھ ہی اخبارات کو تار دے دیئے گئے چنانچہ دوسرے ہی دن یہ بڑی بڑی سرخیوں کے ساتھ اخبارات میں چھپ گیا۔گورنر صاحب نے انٹرویو کے لئے ایسوسی ایشن کے بعض ارکان کو موقع دیا۔ڈپٹی کمشنر صاحب نے ان ارکان پر اپنا اثر ڈالنے کے لئے بعض پابندیاں عائد کر دیں کہ آپ بڑھلاڈا کیس کا ذکر نہ کریں۔مگر گور نر صاحب نے خود ہی اس کی نسبت ممبران سے دریافت کیا تو ممبران نے گورنر صاحب کو صحیح صحیح حالات سے آگاہ کر دیا۔گورنر صاحب کی روانگی کے بعد واقعات سے معلوم ہوا کہ وہ ڈپٹی کمشنر و غیرہ کے خلاف اثر لے کر گئے ہیں۔چنانچہ ڈپٹی کمشنر نے اپنی پوزیشن بچانے کے لئے افسران بالا سے رابطہ پیدا کرنے کی کوشش کی۔اس پر حضور کی طرف سے مجھے ہدایت ہوئی کہ میں شملہ جا کر خان صاحب مولوی فرزند علی صاحب کو سارے حالات سے آگاہ کروں چنانچہ میں شملہ پہنچا اور خان صاحب موصوف سے ملا۔انہوں نے مناسب طور پر کوشش کی کہ ڈپٹی کمشنر وغیرہ کے خلاف گورنر صاحب کا اثر قائم رہے نتیجہ یہ ہوا کہ ڈپٹی کمشنر اور سول سرجن دونوں تبدیل ہو گئے سپرنٹنڈنٹ پولیس تو پہلے ہی تبدیل ہو چکا تھا۔اس طرح حضور ان کی کوششوں سے مسلمانوں کو اس اذیت ناک ماحول سے چھٹکار املا۔میں وہاں تقریباً ایک سال تک رہا اس عرصہ کے دوران میرا اور مجھ سے پیشتر آنے والے احمدی احباب کا سارا خرچہ جماعت احمدیہ ہی نے اٹھایا۔وہاں کے مقامی مسلمانوں پر اس کا کوئی بوجھ نہیں ڈالا گیا۔بڈھلا ڈا کیس کے ضمن میں مجھے انبالہ میں (جو اس وقت ڈویژنل ہیڈ کوارٹر تھا) بھی جانے کا موقعہ ملا اور میں نے کمشنر صاحب۔ڈی۔آئی جی اور دیگر افسران اور معززین سے ملاقات کر کے پڑھ لاڈا اور حصار ڈسٹرکٹ کے مقامات کے مسلمانوں کی ابتر حالت ان پر واضح کی۔اسی غرض کے لئے مشہور ایڈووکیٹ اور مسلمان کے لیڈر سید غلام بھیک صاحب نیرنگ سے بھی میری ملاقات ہوئی۔جب میں نے ان سے ملنے کے لئے تعارفی کارڈ بھیجا انہوں نے مجھے فور ابلالیا اور بڑے تعریفی کلمات کے ساتھ جماعت احمدیہ کے کارناموں کا ذکر کیا۔بڈھلا ڈا کیس کے بارہ میں جو حالات میرے ذریعہ سے اخبارات میں آتے رہے تھے ان سے وہ باخبر تھے علاوہ ازیں بعض اور لوگوں سے میری کارگزاری کے بارہ میں ان کو کچھ علم ہو چکا تھا۔اس لئے انہوں نے اس کام کو بہت سراہا اور تعریف کی " - 11 100-