تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 73
تاریخ احمدیت جلد ۲ مسلمانوں کی مدد کرنے کے لئے عرض کی اور اس کا طریق یہ بتایا کہ پٹیالہ میں بہت سے ڈا کو پناہ گزین ہیں آپ کو شش کر کے کوئی ایک ڈاکو پکڑوالیں اور اس کے ذریعہ سے بڑھ لاڈا میں واردات کرنے والے ڈاکوؤں کا سراغ لگائیں۔خدا کی شان چند ماہ بعد ایک ڈاکو ان کے ہاتھ آگیا جس سے واردات کرنے والے تینوں ڈاکوؤں کے ٹھکانوں کا پتہ چل گیا چنانچہ مناسب وقت پر تینوں گر فتار کر لئے گئے ایک ڈاکو جو ان کا سردار تھا۔گولی لگنے سے مر گیا۔باقی دو زخمی حالت میں پکڑ لئے گئے اور جنگل میں ان سے بہت سا اسلحہ اور گولیاں وغیرہ بر آمد ہو ئیں۔اس طرح بڑھ لاڈا کیس جو پہلے عملاً ختم ہو چکا تھا۔پھر دوبارہ زندہ ہو گیا۔مختصر یہ کہ عدالت میں دونوں کو موت کی سزا ہوئی۔میں سپرنٹنڈنٹ سے ملا اور سازش کرنے والے ہندوؤں پر مقدمہ چلانے کی درخواست کی انہوں نے پنجاب کے قانون دانوں سے مشورہ کیا جنہوں نے تمام رپورٹ ملاحظہ کرنے کے بعد اگرچہ تسلیم کیا کہ یہ سازش ہے لیکن کہا کہ مقدمہ سازش چلانے کے لئے ثبوت کافی نہیں اس لئے کوشش یہ کی جائے کہ سازش کو تسلیم کیا جائے لیکن ضروری ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے یہ معاملہ ملتوی کر دیا جائے اور ملزموں کے خلاف قتل کا مقدمہ چلا کر سزا دلوائی جائے۔چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔اس عرصہ میں یعنی بڈھ لاڈا کی رہائش کے چھ سات مہینہ کے بعد حصار شہر کے نزدیک ایک گاؤں میں اسی طرح فساد ہو گیا جس طرح بڑھ لاڈا میں ہوا تھا اور بہت سے مسلمان شہید کر دیئے گئے۔میں حصار پہنچا اور واقعہ کے صحیح حالات معلوم کئے اور ایک مفصل مضمون اخبارات کے لئے لکھا یہ مضمون انگریزی اور اردو اخبارات میں چھپا۔اس مضمون میں علاوہ واقعہ بیان کرنے کے میں نے یہ بھی ثابت کیا کہ وہاں ایک متوازی گورنمنٹ قائم ہے جو ڈپٹی کمشنر کے علم میں ہے۔ڈپٹی کمشنر نے اس کا اثر زائل کرنے کے لئے ڈسٹرکٹ مسلم ایسوسی ایشن کا ایک اجلاس بلایا اور کوشش کی کہ یہ ریزولیوشن پاس کروالیا جائے کہ حصار میں بالکل امن و امان ہے بڑھلاڈا مسلم ایسوسی ایشن کے صدر نے مجھے تار دیا میں رہتک سے حصار پہنچا اور شائع شدہ مضمون کے حق میں ایک مناسب ریزولیوشن تیار کیا جو اجلاس میں پاس ہو گیا۔یہ ریزولیوشن اخبارات میں شائع ہوا اور افسران بالا کے علاوہ گورنر صاحب کو بھی اس کی ایک کاپی بھیجی گئی۔گورنر صاحب نے ڈپٹی کمشنر کو لکھا کہ میں حصار آرہا ہوں لیکن کوئی ایڈریس قبول نہیں کروں گا البتہ میمورنڈم دیا جا سکتا ہے چنانچہ میں نے مسلم ایسوسی ایشن کے ممبران سے مل کر ایک میمورنڈم تیار کیا اب اس کے چھپوانے کا مسئلہ پیش ہوا۔وقت بہت کم تھا۔اور حصار میں کوئی پریس بھی نہ تھا اس لئے ایسوسی ایشن کے سیکرٹری اور دوسرے ارکان نے مجھ سے درخواست کی