تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 64 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 64

تاریخ احمدیت جلد 4 ۶۴ اور اصلاح کرائی جاسکتی ہے پھر لڑکوں میں آوارگی کی وجہ بے کاری اور کوئی شغل نہ ہونا بھی ہوتی ہے لیکن کو ریں بنا کر جب انہیں ایک کام میں مشغول کر دیا جائے گا۔تو وہ آوارگی سے بچ جائیں گے اور اچھے کاموں میں انہیں لگا کر ان کے اوقات کو مفید بنایا جا سکتا ہے اور جب وہ نیکی کا کام کریں گے تو ان کے دل میں امنگ اور خوشی پیدا ہوگی۔نیکی کے کاموں کی طرف توجہ ہوگی۔ان کے کرنے میں فخر اور خوشی کی روح پیدا ہو جائے گی۔اس طرح دینی کاموں میں بھی ان سے مدد لی جا سکتی ہے اور ان کی حیثیت کے مطابق ان کو قومی کاموں میں حصہ لینے کا موقعہ دے کر ان میں قومی کام کرنے کی روح پیدا کی جاسکتی ہے جس کا اثر ان کی آئندہ زندگی پر پڑے گا۔روحانیت ہر شخص کو ہی خود بخود حاصل نہیں ہو جاتی بلکہ بہت لوگوں کو تربیت کے ذریعہ ہی حاصل ہوتی ہے۔دماغ میں شیطانی اور روحانی جنگ جاری رہتی ہے آخر میں جس کا غلبہ ہو جائے انسان ویسا ہی بن جاتا ہے لیکن ایک حصہ تربیت کے متعلق ہے اس کے ذریعہ انسان شیطانی غلبہ سے بچ سکتا ہے۔پھر عارضی ضرورتوں کی وجہ سے بھی اس قسم کے انتظام کی ضرورت ہے۔بد قسمتی سے ملک میں یہ احساس پیدا کیا جارہا ہے کہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس۔یہ روح نہایت گندی ہے مگر پیدا ہو گئی ہے۔میں گزشتہ سال جب سیالکوٹ گیا تو وہاں ایک جلسہ میں ہم پر پتھر برسائے گئے اور سوا گھنٹہ تک برسائے گئے۔ہماری جماعت نے ان پتھروں کا کامیاب مقابلہ کیا۔تاہم معلوم ہوا کہ ابھی اور زیادہ تربیت کی ضرورت ہے اگر مکمل تربیت ہو تو ہماری جماعت کے لوگ زیادہ عمدگی سے کام کر سکتے ہیں۔ایسے حالات میں چونکہ مخالف اس طرح بھی ہمیں نقصان پہنچانا چاہتا ہے اس لئے ایسے انتظام کی ضرورت ہے اور ہم خدا کے فضل سے ایسے منتظم والنٹیر کو ربنا سکتے ہیں کہ ہم سے سو سو گنی تعداد رکھنے والے لوگ بھی ویسے نہیں بنا سکتے۔پس ہمیں اس قسم کا انتظام کرنا چاہئے۔اور یہی ضروری نہیں کہ اپنے جلسوں کا ہی انتظام کیا جائے بلکہ ایک آریہ بھی اگر تقریر کر رہا ہو اور کوئی اس میں دخل انداز ہو تو کور کے والٹیر کا فرض ہو گا کہ اسے روکیں"۔تھے وہ اہم اغراض و مقاصد جن کے پیش نظر احمدیہ کو ر کا قیام عمل میں لایا گیا۔سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی اے نے کور کی سرپرستی منظور کرلی اور اس کا ناظم و افسر حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب الله کو مقرر فرمایا۔اور اس کے نوجوانوں کا نام "عباد اللہ " تجویز کیا گیا۔صدر انجمن احمدیہ نے فیصلہ کیا کہ انجمن کے تمام کارکن والنٹیر کور کے ممبر ہوں گے۔اور مہینہ میں کم از کم ایک دن اپنے فرائض منصبی کو ر کی وردی میں ادا کریں گے۔ایسے کارکن جن کی عمر ۳۵ سال سے زائد ہوا نہیں اجازت دی گئی۔کہ وہ تمام پریڈوں میں شامل نہ ہوں بلکہ صرف ہفتہ میں معائنہ سامان کی پریڈ