تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 62
تاریخ احمد بیت - جلد ۷ ۶۲ (3) دیکھا جائے کہ کون کون سے استادوں کے گھروں پر طالب علم جاتے ہیں وہ استاد اکثر باغیانہ خیالات کے محرک ہوں گے۔(ز) انارکسٹوں یا ان کے مداحوں کے خیالات کو بحث مباحثہ کے ذریعہ سے معلوم کر کے ان کے اعتراضوں اور ان کی دلیلوں کو جمع کیا جائے تاکہ ان کا رد پمفلٹوں یا لیکچروں کے ذریعہ سے کیا جائے۔(ح) مذہب کی طرف توجہ دلا کر بھی اس کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔چٹاگانگ میں زیادہ سے زیادہ مسلمان عہدیداروں کو جمع کرتا۔مندرجہ بالا کام پہلے ایک ضلع میں شروع کیا جائے۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ان کی اس تفصیلی حکیم کے پیچھے کیا روح کار فرما تھی اس کا اندازہ حضور کے ایک مکتوب (مورخہ ۱۳/ جولائی ۱۹۳۳ء) سے بآسانی لگ سکتا ہے جو حضور نے صوفی صاحب کو ان کی مفصل رپورٹوں پر تحریر کیا تھا فرمایا۔کام کے متعلق میری یہ ہدایت تھی کہ آپ بڑے آدمیوں کو چھوڑ دیں ان سے صرف اتنا تعلق رکھیں کہ وہ آپ کے کام میں روک نہ بنیں لیکن آپ کی رپورٹوں سے مجھے معلوم ہوتا ہے کہ ہر جگہ پر آپ مسلمان لیڈروں سے زیادہ ملتے اور ان کی امداد کے خواہش مند رہتے ہیں مگر ہر جگہ پر آپ کے تجربے سے ہی ثابت ہوا کہ مسلمان لیڈر بالکل مردہ ہیں ان میں زندگی کی روح باقی نہیں اور احمدیت سے ان کو اس حد تک تعصب ہے کہ وہ بنگالی مسلمانوں کی تباہی کو خوشی سے برداشت کرنے کو تیار ہیں لیکن اس امر کے لئے تیار نہیں کہ احمدی ان کی مدد کریں یہ بات بالکل ظاہر ہے کہ اگر بنگال کے مسلمان جلد بیدار نہ ہوئے تو ان کی حالت ریاستی مسلمانوں سے بھی بدتر ہو جائے گی۔جب اتنی بڑی قیامت مسلمانوں کے سامنے نظر آتی ہے تو ہم صرف لیڈروں کا منہ تکتے ہوئے خاموش بیٹھے نہیں رہ سکتے"۔احمدیہ کو ر ہندوستان میں حالات جس سرعت سے تغیر پذیر ہورہے تھے ان کا تقاضا تھا کہ مسلمانوں کی بہبود خدمت خلق اور احمدی نوجوانوں میں تنظیمی روح پھونکنے کے لئے ہر قسم کے آئینی ذرائع بروئے کار لاتے ہوئے کوئی موثر نظام عمل تجویز کریں تا بدلے ہوئے حالات میں ملک و قوم کی بہتر خدمت کر سکیں۔اس اہم قومی ضرورت کے ماتحت پیراکبر علی صاحب نے مشاورت ۱۹۳۲ء منعقدہ ۲۵ تا ۲۷/ مارچ) میں یہ تجویز پیش کی کہ ایک احمدیہ والٹیر کو ربنائی جائے۔اور کوشش کی جائے کہ احمدی نوجوان اس کو ر میں داخل ہوں اس تحریک کو کلی طور پر منظم کیا جائے اور جلسوں کے انتظام اور دیگر رفاہ عام کے کاموں میں ان سے مدد لی جایا کرے اس کو ر کا فائدہ یہ ہو گا کہ بچوں میں فوجی