تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 56 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 56

تاریخ احمد ید - جلد ۶ OY ہمارے لیڈر معمولی معمولی بات پر آپس میں جھگڑ رہے ہیں تو وہ باغی ہو جائیں گے اور نا تجربہ کار نوجوان کانگریس کے جھنڈے تلے جمع ہو جائیں گے اور مسلم مفاد کو نا قابل تلافی نقصان پہنچے گا اور مسلم رہنما بندوں اور خدا کے سامنے ذمہ دار ہوں گے۔نوجوانوں میں بے چینی بڑھ رہی ہے۔اور قبل اس کے کہ معاملہ بڑھے اس کا انسداد لازمی ہے " - 7 اس جگہ یہ بتانا ضروری ہے کہ اس دور میں آل انڈیا مسلم کانفرنس کے علاوہ آل انڈیا مسلم لیگ آل انڈیا مسلم یو تھ لیگ اور دوسری تمام مسلمہ سیاسی انجمنوں سے جماعت احمدیہ کے روابط تھے اور ان کے اجلاس میں جماعت کا کوئی نہ کوئی مرکزی نمائندہ ضرور شامل ہو تا تھا۔2 12- آل سکھ پارٹیز کانفرنس کی قرار داد اور ان دنوں ہندووں نے پنجاب میں مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں بدلنے لے لئے سکھوں کو حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کا اہم بیان اپنا آلہ کار بنا رکھا تھا۔اور ہندو پریس سکھوں کی تعریفیں کر کے ان کو مسلمانوں کے خلاف فتنہ انگیزی کے لئے مسلسل اکسا رہا تھا اس کا اثر تھا کہ ۱۲۴ جولائی ۱۹۳۲ء کو مہاراجہ رنجیت سنگھ کی سادھ پر سکھوں کی ایک کانفرنس آئندہ دستور اساسی میں سکھوں کی پوزیشن واضح کرنے کے لئے منعقد ہوئی جس میں یہ ریزولیوشن پاس کیا گیا کہ پنجاب میں مسلمانوں کو فرقہ وارانہ آئینی اکثریت نہ دی جائے اور یہ کہ پنجاب کو نسل میں سکھوں کو ۳۰ فیصدی نشستیں دی جائیں۔اور بڑے جوش و خروش کے ساتھ کہا گیا کہ سکھ اس فیصلے کے خلاف کوئی بات منظور نہ کریں گے نیز ایک کمیٹی بنائی گئی جو سکھوں کے مطالبات پورے نہ ہونے کی صورت میں حکومت کے خلاف اقدام کرے۔اس نازک موقعہ پر جب کہ سکھوں کی اس قرار داد نے ملکی فضا بہت مکدر کر دی تھی اور مسلمانوں کے قومی مطالبات کو نقصان پہنچنے کا شدید خطرہ پیدا ہو گیا تھا۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے مسلمانوں کو سکھوں کے چیلنج کا جواب دینے کے لئے ایک پنجاب مسلم کانفرنس کے انعقاد کی تجویز پیش کی۔چنانچہ حضور نے فرمایا۔میں آل پارٹیز سکھ کانفرنس کی قرار داد کے لب ولہجہ پر سخت حیران ہوں۔میں نے سکھوں اور مسلمانوں کے اتحاد کی ہمیشہ تلقین کی ہے لیکن میں نہیں سمجھتا کہ بحالات موجودہ کوئی مسلمان بھی سکھوں کے چیلنج کو قبول کرنے سے انکار کرے گا۔میں سکھ راہنماؤں سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اپنی پوزیشن پر اچھی طرح سے غور کر لیں۔میرا خیال ہے کہ مرکز میں مسلمانوں کی پوزیشن پنجاب میں سکھوں اور ہندوؤں کے مقابلہ میں بدرجہا بد تر ہے۔انہیں اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ دھمکیوں