تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 53
تاریخ احمدیت۔جلد ۶ ۵۳ کے پیر تھے۔ان کی شہادت حقہ کے محفوظ رہنے میں (جیسا کہ مولانا شمس صاحب نے اپنے بیان کے آخر میں فرمایا اللہ تعالیٰ کی یہی حکمت تھی کہ ایک دن اس ریاست کی عدالت میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کفر و اسلام کا مسئلہ پیش ہونا تھا اس لئے پہلے سے خدا تعالٰی نے اپنے فرستادہ کی تائید کے لئے یہ سامان پیدا کر دیا کہ اعلیٰ حضرت نواب صاحب بہاولپور کے مقدس پیر کی شہادت جو ہزاروں شہادتوں سے بڑھ کر ہے ان کے بچے مسلمان ہونے پر پیش کی جاسکے۔اور گواہوں نے جو وجہ تکفیر پیش کرنی تھی کہ وہ ضروریات دین کے منکر ہیں وہی الفاظ خدا تعالٰی نے حضرت خواجہ صاحب کے منہ سے نکلوائے کہ وہ ضروریات دین کے ہرگز منکر نہیں ہیں۔فاضل جج کی ”شان تحقیق فاضل حج کی "شان تحقیق" اور "قوت فیصلہ " کی یہ حیرت " امیر مثال ہے کہ انہوں نے بدعیہ کی طرف سے حضرت خواجہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ جیسی بلند پایہ شخصیت کے اس فیصلہ کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کی بجائے اس سے انحراف کے لئے عذر یہ تراشا کہ ”مرزا صاحب کی ایک تحریر سے جو آپ کی کتاب "انجام آتھم " صفحہ ۶۹ پر درج ہے پایا جاتا ہے کہ حضرت خواجہ صاحب بھی بعد میں مرزا صاحب کے مکفر اور مکذب ہو گئے تھے "۔حالانکہ اسی انجام آتھم " کے آخر میں حضرت خواجہ غلام فرید صاحب آف چاچڑاں کا مندرجہ ذیل خط بھی موجود ہے جو دعوت مباہلہ کے جواب میں انہوں نے نہایت محبت و عقیدت سے لکھا۔من فقير باب الله غلام فرید سجاده نشین الی جناب میرزاغلام احمد صاحب قادیانی بسم الله الرحمن الرحيم الحمد لله رب الارباب۔والصلوة على رسوله الشفيع بيوم الحساب و على أله والاصحاب والسلام عليكم وعلى من اجتهد و اصاب اما بعد قدار سلت الى الكتاب و به دعوت الى المباهلة وطالبت با الجواب واني ان كنت عديم الفرصة ولكن رايت جزءه من حسن الخطاب۔وسوق العتاب۔اعلم یا اعزا الاحباب اني من بد و حالك واقف على مقام تعظيم لنيل الثواب وما جرت على لساني كلمة في حقك الا با التبحيل ورعاية الاداب والان اطلع لك باني معترف بصلاح حالك بلا ارتیاب و موقن بانک من عباد الله الصالحين و في سعيك المشكور مثاب و اوتيت الفضل من الملك الوهاب و لك ان تسئل من الله تعالى خير عاقبتی وادعو لكم حسن ما ب ولولا خوف الاطناب لا زددت في الخطاب والسلام على من سلك سبيل الصواب فقط