تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 52
تاریخ احمدیت جلده ۵۲ دیئے گئے ہیں تو دوسری طرف اس کے نتیجہ میں حضرت عیسی علیہ السلام، حضرت یحیی علیہ السلام اور دوسرے بہت سے جلیل القدر پیغمبر جنہوں نے اپنی زندگی میں اپنی قوم کو زمین کے بہترین خطوں کا مالک نہیں بنایا۔اور ہمیشہ غیر ملکی حکومت کی سیاسی اعانت کرتے رہے دائرہ انبیاء سے خارج قرار پاتے ہیں۔حضرت خواجہ غلام فرید صاحب چاچڑاں افسوس ہے کہ یہ فیصلہ ایک ایسی سرزمین میں کیا شریف کی شہادت اور اس کی حکمت گیا جہاں حضرت خواجہ غلام فرید صاحب چاچڑاں شریف جیسے بزرگ کامل گزرے ہیں جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نسبت صاف لفظوں میں فرمایا تھا کہ۔فرمودند که همه اوقات مرزا صاحب عبادت خدا عزو جل میگذرند یا نماز میخواند یا تلاوت قرآن میکنند یا دیگر شغل اشغال می نماید و بر حمایت دین اسلام چناں کمر همت بسته که ملکه زمان لنڈن را نیز دعوت دین محمدی کرده است و بادشاه روس و فرانس و غیر همارا اہم دعوت اسلام نموده است و همه سعی و کوشش او در این است که عقیده تثلیث و صلیب را که سراسر کفر است بگذارند و توحید خداوند تعالی بگردند و علمائے وقت را به بینید که دیگر گردہ مذاہب باطله را گزاشته صرف در پے ایس چنیں نیک مرد کہ اہلسنت و جماعت است و بر صراط مستقم است دراہ ہدایت سے نماید افتاده اند و بروئے حکم تکفیر می سازند - کلام عربی او به بینید که از طاقت بشریه خارج است و تمام کلام او از معارف و حقائق و هدایت است و از عقائد اہلسنت و جماعت و ضروریات دین ہرگز منکر نیست ترجمہ: حضرت خواجہ صاحب علیہ الرحمہ نے فرمایا کہ (حضرت) مرزا صاحب تمام اوقات خدا تعالی کی عبادت میں گزارتے ہیں یا نماز پڑھتے ہیں یا تلاوت قرآن شریف کیا کرتے ہیں یا اور شغل و اشغال کیا کرتے ہیں اور حمایت دین اسلام پر ایسے کمر بستہ ہیں کہ ملکہ زمان لنڈن کو بھی دین محمدی کی دعوت دی ہے اور بادشاہان روس و فرانس و غیر ہم کو بھی دعوت اسلام دی ہے اور ان کی تمام سعی اور کوشش اس میں ہے کہ لوگ عقیدہ تثلیث و صلیب چھوڑ کر جو کفر ہے خدا تعالی کی توحید کو مان لیں اور علماء وقت کو دیکھو کہ تمام مذاہب باطلہ کے گروہ کو چھوڑ کر صرف ایسے شخص کے درپے ہو گئے ہیں جو اہل سنت و جماعت میں سے ہے اور صراط مستقیم پر قائم ہے اور راہ ہدایت دکھلاتا ہے اور اس پر کفر کا فتوی لگاتے ہیں اس کا عربی کلام دیکھو کہ طاقت بشری سے بالا ہے اور اس کا تمام کلام معارف و حقائق و ہدایت سے پر ہے اور وہ عقائد اہلسنت و جماعت و ضروریات دین سے ہر گز منکر نہیں ہے۔یہ پاک شہادت اس محترم انسان کی ہے جس کی بزرگی اور تقدس کا ایک جہان قائل و معترف ہے اور ریاست بہاولپور کا ایک بڑا حصہ اس کا معتقد و مرید ہے اور وہ اعلیٰ حضرت نواب صاحب بہاولپور