تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 51 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 51

تاریخ احمدیت۔جلد ؟ ۵۱ $114 تعریف کا علم ہوا۔چنانچہ لکھتے ہیں۔یہ تعریفیں چونکہ اس حقیقت کے اظہار کے لئے کافی نہ تھیں اس لئے میں اس جستجو میں رہا کہ نبی یا رسول کی کوئی ایسی تعریف مل جائے جو تصریحات قرآن کی رو سے تمام لوازم نبوت پر حاوی ہو اس سلسلہ میں مجھے مولانا محمود علی صاحب پروفیسر رندھیر کالج کی کتاب "دین و آئین" دیکھنے کا موقعہ ملا انہوں نے معترضین کے خیالات کو مد نظر رکھتے ہوئے نبوت کی حقیقت یہ بیان کی کہ جس شخص کے دل میں کوئی نیک تجویز بغیر ظاہری وسائل اور نور کے پیدا ہو ایسا شخص پیغمبر کہلاتا ہے اور اس کے خیالات کو وحی سمجھا جاتا ہے۔لیکن یہ تعریف بھی مجھے دلچسپ معلوم نہ ہوئی"۔سوال پیدا ہوتا ہے کہ مدعیہ کی طرف سے پیش ہونے والے "مستند مشاہیر علماء ہند اور مولانا محمود علی جیسے روشن خیال پروفیسر جب تسلی نہ کرا سکے تو فاضل جج نے آخر یہ بنیادی مسئلہ " شرع شریف " کے مطابق کس طرح حل فرمایا ؟ سو جواب یہ ہے کہ صرف اور صرف ادارہ طلوع اسلام کے علمبردار چوہدری غلام احمد صاحب پرویز کی تحریر سے جن کو آج بر صغیر کے بہت سے مسلم علماء سرے سے مسلمان ہی نہیں سمجھتے۔چنانچہ فاضل جج کا بیان ہے۔"آخر کار ایک رسالہ میں ایک مضمون بعنوان میکانیکی اسلام از جناب چوہدری غلام احمد صاحب پرویز میری نظر سے گزرا۔اس میں انہوں نے مذہب اسلام کے متعلق آج کل کے روشن ضمیر طبقہ کے خیالات کی ترجمانی کی ہے اور پھر خود ہی اس کے حقائق بیان کئے ہیں۔اس سلسلہ میں نبوت کی جو حقیقت انہوں نے بیان کی ہے میری رائے میں اس سے بہتر اور کوئی بیان نہیں کی جاسکتی۔اور میرے خیال میں فریقین میں سے کسی کو اس پر انکار بھی نہیں ہو سکتا۔اس لئے میں ان کے الفاظ میں ہی اس حقیقت کو بیان کرتا ہوں۔وہ لکھتے ہیں کہ آج کل کے معقولیت پسندوں کی جماعت کے نزدیک رسول کا تصور یہ ہے کہ وہ ایک سیاسی لیڈر اور ایک مصلح قوم ہوتا ہے جو اپنی قوم کی تکمبت اور زبوں حالی سے متاثر ہو کر انہیں فلاح و بہبود کی طرف بلاتا ہے اور تھوڑے ہی دنوں میں انکے اندر انضباط و ایثار کی روح پھونک کر زمین کے بہترین خطوں کا ان کو مالک بنادیتا ہے۔الخ " یہ تعریف کہاں تک لوازم نبوت پر حاوی ہے اس کی نسبت کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔مقصود صرف اس قدر بتاتا ہے کہ دربار معلیٰ کا مقرر کردہ حج جو " شرع شریف کی روشنی میں نبوت کا انقطاع یا تسلسل کا فیصلہ کرنے کے لئے قلم اٹھاتا ہے اس کا ذہن خود نبوت کی تعریف کے بارہ میں منتشلک اور متذبذب ہے اور اپنی نگاہ میں جس تعریف کو بہترین " قرار دیتا ہے نہ صرف اس کا تصریحات قرآنی سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ ایک طرف اس سے تمام انبیاء سیاسی لیڈروں کی صف میں کھڑے کر