تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 44 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 44

تاریخ احمدیت جلد ۷ مهم مهم دی۔جب میں اندر داخل ہوا تو دیکھا محترم مولانا جلال الدین صاحب شمس کی تقریر ہو رہی تھی اور کمرہ میں ایک سناٹا چھایا ہوا تھا۔سامعین ہمہ تن نغمہ سروش کے خمار میں مست تھے۔حج بھی کرسی عدالت پر محویت کے عالم میں قلم ہاتھ میں تھامے منہ کے قریب لئے محو سماع نظر آیا۔میں چونکہ احمدیت کے لحاظ سے حدیث العمد تھا۔(میری بیعت ۱۹۲۷ء کی ہے اس سے پہلے میں نے کسی احمدی کو اپنے مد مقابل کے سامنے تقریر کرتے ہوئے نہیں دیکھا تھا۔میں نے دیکھا کہ ان کی تقریر کچھ ایسے رنگ میں تھی جس کا نقشہ قرآن مجید کی ان آیات میں کھینچا گیا ہے۔جہاں مجاہدین اسلام کے کارناموں کے تذکرے بیان کئے ہیں اور جن میں اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے دور کی بھی پیشگوئی ہے۔النازعات غرقا و الناشطات نشطار السابحات سبحا۔میں نے دیکھا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی فوج کا یہ جانباز سپاہی پورے زور و قوت کے ساتھ دلائل حقہ اور براہین قاطعہ کے پیم واروں سے مولویوں کے عقائد باطلہ اور ان کے خود تراشیدہ مسائل کی دھجیاں اڑانے میں مستغرق ہے اور ایک ہوشیار ڈاکٹر کی طرح اپنے فن سرجری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان اغلوظات کا اپریشن ایسے عمدہ طریق سے کر رہا ہے۔اور تصحیحی امور کی تنقید کرتے ہوئے ان عقائد فاسدہ کے پر عفونت مواد خبیثہ کو ایک ایک کر کے ایسے طور پر نکال رہا ہے۔جیسے لائق سول سرجن کامیاب اپریشن کی صورت میں مریض کے جسم سے تمام غلیظ اور زہریلے مواد نکال کر باہر پھینک دیتا ہے۔اور کام ایسے پر سکون کیف اور نشاط طبع سے ہو رہا ہے کہ گفتگو میں کسی قسم کی تلخی آنے نہیں پاتی۔جیسا کہ عموماً مولویوں کی گفتگو میں ہوتی ہے۔بلکہ نہایت ٹھنڈے دل سے حاضرین بھی نشاط و سرور سے سن رہے ہیں۔یہ شہسوار میدان تقریر میں اپنے اشب بیان کو ایسے طور پر چلا رہا تھا۔گویا اسپ تیز رفتار ہوا میں تیر رہا ہے - (" مضامین لطیفه " صفحه ۱۸۱ تا ۱۸۴ مرتبہ مولانا عبد اللطيف صاحب - مطبع ضیاء الاسلام پریس ربوہ) مولانا غلام احمد صاحب بد و ملی کا بیان ۳ مارچ ۱۹۳۳ء کو مولانا غلام احمد صاحب بد و ملی کا مدلل بیان شروع ہوا۔بیان کے شروع ہوتے ہی فریق ثانی نے یہ سوال اٹھایا کہ مرزا صاحب کے ساتھ علیہ الصلوۃ والسلام کے الفاظ کیوں استعمال کئے جاتے ہیں؟ جج صاحب نے بھی ایک حد تک اس کی تائید کی۔مگر جب مولوی صاحب نے کہا کہ اگر جج کوئی ہندو ہو اور رنگیلا رسول کا لکھنے والا کسی مسلمان گواہ کے متعلق اصرار کرے کہ محمد ال کے ساتھ مت کہو تو کیا حج قانوناً مجاز ہے کہ نہ لکھے یا اس گواہ کو روک دے۔اگر ایسا نہیں تو ہمیں کیوں روکا جاتا ہے۔اس نکتہ پر بیج نے مجبورا اپنی رائے بدل لی۔مولوی صاحب کا اصل بیان ۲۴۰