تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 43
تاریخ احمدیت۔جلد ۶ جوابات سے باآسانی ہو سکتا ہے جو انہی دنوں الفضل میں شائع کر دیئے گئے۔مولوی عبد اللطیف صاحب فاضل دیوبند کی چشمدید شہادت مولوی عبد اللطيف صاحب فاضل دیو بند کا بیان ہے کہ "۳۳-۳۲ء کا واقعہ ہے جب کہ ریاست بہاولپور میں مقدمہ تنسیخ نکاح کے دوران احمدیوں اور دیو بندیوں کے مابین ڈسٹرکٹ جج کی عدالت میں بحث ہو رہی تھی۔میں بھی یہ بحث سننے کے لئے آیا تھا۔چونکہ دیر ہو جانے کے باعث میں پیدل تیز تیز جارہا تھا کہ اچانک پیچھے سے ایک ٹانگہ آپہنچا جس میں دیو بندی احباب جو میرے پرانے واقف کار اور بعض کلاس فیلو بھی تھے اس میں سوار تھے۔مواد بحث کے لئے کچھ ایرادی کتب لئے وہ بھی ادھر جا رہے تھے چونکہ سلسلہ احمدیہ میں مجھے داخل ہوئے تھوڑا ہی عرصہ ہوا تھا ان دوستوں کو میرے احمد می ہونے کا علم نہیں تھا۔مجھے پیدل جاتے دیکھ کر ٹانگہ کھڑا کیا۔اور مجھ سے پوچھنے پر جب انہیں معلوم ہوا کہ میں بھی ادھر ہی جا رہا ہوں مجھے سوار کر کے ٹانگہ دوڑا کر احاطہ عدالت تک پہنچے۔جب ہم کمرہ عدالت تک پہنچے تو میں نے اصحاب الیمین اور اصحاب الشمال کا عجیب نظارہ دیکھا۔کمرہ عدالت میں داخلہ کا دروازہ جو شرقی طرف تھا دیکھا کہ اس کے دائیں طرف احمدیوں کی نشست گاہ ہے اور بائیں طرف احمدیوں کے مقابل فریق ثانی کی۔داخل ہو کر جب میں داہنی طرف جانے لگا تو دیوبندی دوست میرا ہاتھ پکڑ کر اپنی طرف لے جانے لگے اور میرے دوسری جانب اصرار کرنے پر کہنے لگے کہ وہ تو مرزائیوں کی جگہ ہے۔تب میں نے انہیں کہا انا من اصحاب الیمین کہ میں اصحاب الیمین میں شامل ہوں۔اتفاق دیکھئے نشست گاہ کی ہیئت کذائیہ کی تجویز خود انہیں غیر احمدیوں کے منصوبے سے ہوئی تھی۔انہوں نے شائد اپنے نقطہ نگاہ سے احمدیوں کو بائیں طرف جگہ دی تھی اور دائیں جانب اپنے لئے منتخب کی تھی۔کیونکہ عدالت کی جگہ جو مغربی جانب تھی اور جج جو قبلہ کو پیٹھ دے کر بیٹھتا تھا۔اس کی داہنی طرف کو انہوں نے اپنے لئے باعث فخر اور نیک فال شمار کیا اور احمدیوں کو جج کی بائیں جانب جگہ دے کر گویا اپنے خیال میں ان کی تذلیل کی۔مگر قدرت کی ستم ظریفی دیکھئے۔بوجہ حق سے محجوب ہونے کے ان کے دماغ ایسے کند ہو گئے کہ یہ نہ سوچا کہ یہ ہیئت تو قبلہ کو پیٹھ دینے کی وجہ سے ہے حالانکہ مومن کو تو یہ حکم ہے۔حيث ما كنتم فولوا وجوهكم شطرة۔عہد حاضر میں بھی جب اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے اجتماع و اتحاد کیلئے ایک امام اور اسلام کی نشاءة ثانیہ کے لئے ایک روحانی مرکز قرار دیا تو اس کی طرف بھی ان میں سے اکثر نے رخ نہ کیا۔بلکہ پیٹھ ہی