تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 42
تاریخ احمدیت۔جلد ۶ اور ہمیں تکلیف ہوتی ہے۔حج۔آپ عام پبلک کا خیال رکھیں اور ایسی بات نہ کریں جس سے لوگوں کو طیش آئے۔شمس۔میں اس حدیث کو اپنی تائید میں ضرور پیش کروں گا۔طیش کی کوئی وجہ نہیں ہمیں روزانہ یہاں کافر مرتد کہا جاتا ہے اور مسجدوں کے دروازوں پر گندے اور گالیوں سے پر اشتہار لگائے جاتے ہیں اور ہمارے مقدس امام کو برا کہا جاتا ہے۔کیا ہمیں طیش نہیں آتا؟ لیکن رسول اللہ کی حدیث پیش کرنے پر ان مولویوں کو طیش آتا ہے یہ عدالت کا کمرہ ہے کوئی مسجد یا درسگاہ نہیں یہاں شاہد کی شہادت پر جرح ہو رہی ہے جسے طیش آتا ہے وہ یہاں سے چلا جائے لیکن یہ نہیں ہو سکتا کہ جرح کے سوال کو جو گواہ کی شہادت کو کمزور کرتا ہے چھوڑ دیا جائے۔حج۔میں اس سوال کو روکتا ہوں۔شمس۔جب آپ ہماری جرح کو اس طرح روکتے ہیں تو میں جرح بند کرتا ہوں ( یہ کہہ کر مولانا شمس صاحب کرسی پر بیٹھ گئے اور عدالت میں دو تین منٹ تک سناٹا چھا گیا) پھر مجسٹریٹ صاحب نے مولوی انورشاہ صاحب کے مختار سے کہا آپ جو سوالات توضیح کے لئے شاہد سے کرنا چاہتے ہیں کریں۔اس نے سوال کیا اور انور شاہ صاحب نے جواب دینا شروع کیا۔جج صاحب لکھنے لگے۔لیکن تھوڑی دیر کے بعد حج صاحب نے شمس صاحب سے مخاطب ہو کر کہا کہ آپ نے مقدمہ کی پیروی چھوڑ دی ہے ؟ شمس۔میں نے مقدمہ کی پیروی نہیں چھوڑی جرح چھوڑ دی ہے کیونکہ عدالت ہماری جرح نہیں سننا چاہتی۔شاہد جو اس وقت کہہ رہا ہے میں اسے لکھ رہا ہوں"۔۵/ نومبر ۱۹۳۲ء کو مقدمہ کی دوبارہ سماعت شروع ہوئی۔قبل ازیں احمدیوں سے عدالت میں انتہائی غیر منصفانہ اور غیر مساویانہ سلوک ہو تا تھا۔اور سٹیج پر غیر احمد ی رؤساء کو بھی حج کے ساتھ کرسی ملتی تھی۔مگر جب اس جنبہ داری کا بہت چرچا ہوا تو عدالت میں سنج کے ساتھ اینٹوں کا ایک کٹہرا بنا دیا گیا۔۔۱۷ نومبر ۱۹۳۲ء کو مولانا جلال الدین صاحب شمس " کا بیان اور اس پر جرح مولانا جلال الدین صاحب شمس کا معرکتہ الاراء بیان شروع ہوا۔جو کئی دنوں تک جاری رہا۔یہ بیان ایک رسالہ کی صورت میں " مقدمہ بہاولپور " کے نام سے دسمبر ۱۹۳۲ء میں شائع کر دیا گیا تھا جو غیر احمدی علماء کے پاس پہنچ چکا تھا۔چونکہ دیو بند کے مایہ ناز علماء کو گزشتہ جرح میں مولانا شمس صاحب کے ہاتھوں عبرتناک شکست ہوئی تھی۔اس لئے ان اصحاب نے اس کا انتقام لینے کے لئے دہلی ، دیوبند اور لکھنو وغیرہ مقامات کا دورہ کیا اور مسلسل ساڑھے تین ماہ تک اس بیان پر جرح تیار کرتے رہے۔مگر اس درجہ تیاری کے باوجود جب یکم مارچ ۱۹۳۳ء کو مقدمہ کی کارروائی پھر شروع ہوئی۔اور انہیں بیان پر جرح کا موقع ملا۔تو خدا کے فضل وکرم سے کس طرح انہیں منہ کی کھانا پڑی۔اس کا اندازہ مولانا کے ان