تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 41
تاریخ احمدیت۔جلد ۶ ۴۱ سے شروع ہو کر ۲۷/ اگست کو ختم ہوئی۔مخالفین کو اپنے علامہ شیخ الحدیث پر بہت ناز تھا۔اور ان کے مداحوں کا خیال تھا کہ شیخ الحدیث کی شہادت احمدیت کے لئے خطرناک حربہ ثابت ہو گی۔ان کا شہرہ سن کر پہلے دن تمام سرکاری حکام اور معززین شہر حاضر عدالت ہوئے۔تاشیخ الحدیث کا بیان اور اس پر جرح سنیں۔عدالت کا کمرہ کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔شہادت ختم ہونے پر مولانا جلال الدین صاحب شمس نے اپنی باطل شکن جرح شروع کی تو شیخ الحدیث کے منہ پر ہوائیاں اڑنے لگیں۔علمی کم مائیگی کا یہ عالم ہوا کہ تورات کی مشہور آیت ” خداوند سینا سے آیا اور فاران سے طلوع ہوا " کو انجیل کی آیت بتلایا۔کئی بار پوچھنے پر فرمایا۔کتاب الفصل میں ایسا ہی لکھا ہے۔مجھے اس سے زیادہ کچھ علم نہیں۔اسی طرح ایک مشہور حدیث جس میں حضور سید الانبیاء ﷺ نے اسلام کے پانچ ارکان بیان فرمائے ہیں (یعنی بنی الاسلام على خمس شیخ الحدیث زبانی نہ پڑھ سکے حدیث کی کتاب لانے کے لئے اپنے ایک شاگرد کو اشارہ کیا اور سر نیچا کئے فرمایا اس وقت یہ حدیث میرے ذہن سے اتر گئی ہے اور الفاظ حدیث اچھی طرح یاد نہیں رہے۔آخر مولانا شمس " صاحب نے پوری حدیث زبانی پڑھ دی۔جس کی صحت کا شیخ الحدیث نے کھلی عدالت میں اقرار کیا۔غرضکہ مولانا شمس صاحب کی جرح نے شیخ الحدیث کی علمی حقیقت کھول دی اور وہ بالآخر نہایت گھبراہٹ کے عالم میں کمرہ عدالت سے باہر تشریف لے گئے۔ہم یہاں یہ ذکر کئے بغیر نہیں رہ سکتے کہ جرح کے جرح کے دوران کا ایک اہم واقعہ دوران ایک واقعہ یہ بھی پیش آیا۔کہ مولانا جلال الدین صاحب شمس نے ایک حدیث سنانا چاہی۔مگر مخالف علماء نے شور مچادیا کہ اس کی کوئی ضرورت نہیں۔اس سے آنحضرت ا کی تو ہین ہوتی ہے اس پر عدالت نے بھی حکم دیا کہ یہ حدیث چھوڑ دیں کوئی اور مثال پیش کریں اس پر مولانا شمس صاحب نے کیا جواب دیا اور عدالت کی جانبداری کی وجہ سے کس طرح جرح ترک کرنا پڑی۔اس کی تفصیل " الفضل" کے نامہ نگار کے الفاظ میں درج ذیل ہے۔" حج۔آپ اس حدیث کو چھوڑ دیں کوئی اور مثال پیش کریں۔شمس۔کیوں چھوڑ دیا جائے۔جس پاک شخصیت کے متعلق بحث ہے اس کی مثال دی جائے گی اور شاہد کی شہادت کو توڑنے کے لئے ضروری ہے کہ اس کے مسلمات سے مثال پیش کی جائے۔حج۔اس سوال کا تعلق کیا ہے؟ ٹمس۔جب ایک بات ایک شخص کے لئے وجہ تکفیر ٹھہرائی جاتی ہے تو وہی بات جب دوسرا کہے تو کیوں وجہ تکفیر نہ قرار دی جائے۔اگر وہ واقعہ وجہ تو ہین ہے۔مولویان دیو بند - نہیں۔اس سے مسلمانوں کو طیش آتا ہے