تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 40 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 40

تاریخ احمدیت جلده مولوی محمد شفیع صاحب مفتی دارالعلوم دیوبند مولوی سید محمد مرتضی حسن صاحب در بھنگی ناظم تعلیمات دیو بند اور مولوی نجم الدین صاحب پروفیسر اور مینٹل کالج لاہور کی شہادتیں ہوئیں اور مدعا علیہ کی طرف سے علامہ جلال الدین صاحب شمس مولانا غلام احمد صاحب مولوی فاضل مولوی عبد الاحد صاحب اور چوہدری اسد اللہ خان صاحب بیرسٹر پیش ہوئے۔جج صاحب نے چوہدری اسد اللہ خان صاحب کو بیرسٹر ہونے کی وجہ سے مختار ہو نا منظور نہ کیا لہذا مولانا شمس صاحب اور مولانا غلام احمد صاحب بدو ملی مدعا علیہ کی طرف سے مختار ہوئے جو ابتدائی پیشیوں تک مختار رہے ازاں بعد جب یہ حضرات بطور گواہ پیش ہونے لگے تو ان کی بجائے شیخ مبارک احمد صاحب فاضل اور مولوی عبد اللہ صاحب اعجاز کو یہ خدمت سپرد ہوئی جسے انہوں نے آخر تک نہایت خوش اسلوبی سے نبھایا۔عدالت کی کار روائی شروع ہونے پر مدعا علیہ کی طرف سے زور دیا گیا کہ جب مقدمہ کا فیصلہ شریعت کے مطابق ہوتا ہے تو شریعت کی رو سے ہی شہادتیں بھی لی جائیں۔پہلے ایک شہادت مدعیہ کی طرف سے ہو اور اس کے مقابل دو سری مدعا علیہ کی طرف سے حج صاحب نے اسے منظور بھی کر لیا۔مگر فریق مخالف نے جب اصرار کیا کہ پہلے ضروری ہے کہ ہماری تمام شہادتیں ختم ہو جا ئیں تو جج صاحب نے آخری فیصلہ یہ دیا کہ شہادتیں ضابطہ دیوانی کے ماتحت لی جائیں گی۔گویا پہلے قدم پر ہی شریعت کو جواب دے دیا گیا۔سب سے پہلے مفتی محمد شفیع صاحب مفتی دارالعلوم دیوبند کی شہادت ہوئی۔جس پر مولانا جلال الدین صاحب شمس نے لاجواب جرح کی۔دوسری شهادت مولوی سید مرتضی حسن صاحب دربھنگی کی ہوئی جو ۲۳ / اگست سے شروع ہو کر ۲۴ / اگست کو ختم ہوئی۔مولوی صاحب نے اپنی شہادت کے آغاز میں کہا کہ مرزائیوں کا ارتداد اور کفر ایسا واضح اور صریح ہے کہ اس میں کسی ایچ بیچ کی ضرورت ہی نہیں بلکہ ایسے دلائل سے ثابت ہے کہ مطلقاً اس پر جرح نہیں ہو سکتی خواہ مخواہ کوئی جرح میں وقت ضائع کرے تو اور بات ہے۔آخر انہوں نے ایک طول طویل بیان دیا۔جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف ہیں وجوہ کفر پیش کئے۔۲۴/ اگست کو جبکہ مولوی سید مرتضی حسن خان صاحب کے بیان پر جرح ہوئی تھی عوام بہت خوش نظر آتے تھے۔لیکن جب مولانا غلام احمد صاحب بدر ملی نے (جنہیں ان دنوں مجاہد کے نام سے پکارا جاتا تھا) جرح کر کے ابتداء میں دو چار سوالات کئے تو مجلس کا رنگ ہی بدل گیا۔اور تمام کمرہ عدالت میں سناٹا چھا گیا۔تیسری شهادت مولوی سید محمد انور شاہ صاحب کشمیری شیخ الحدیث دیو بند کی تھی۔جو ۲۵/ اگست