تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 39
تاریخ احمدیت جلد ۶ ٣٩ سے قدر تأیہ سوال عوام کے لئے جاذب توجہ بن گیا اور پبلک کو اس میں ایک خاص دلچسپی پیدا ہو گئی اور ہر تاریخ سماعت پر لوگ جوق در جوق کمرہ عدالت میں آنے لگے۔چنانچہ عوام کی اس دلچپسی اور مذہبی جوش کو مد نظر رکھتے ہوئے حفظ امن قائم رکھنے کی خاطر پولیس کی امداد کی ضرورت محسوس کی گئی اور عدالت ہذا کی تحریک پر صاحب بہادر کمشنر پولیس کی طرف سے ہر تاریخ پیشی پر پولیس کا خاطر خواہ انتظام کیا جاتا رہا۔| AA- ۲۱ جون ۱۹۳۲ء کو ڈسٹرکٹ حج بہاولپور (منشی محمد اکبر خان ڈسٹرکٹ جج صاحب کا رویہ صاحب بی۔اے ایل ایل بی) نے سماعت شروع کی۔عدالت نے شیخ الجامعہ کو وہ کچھ دہرانے کے لئے بلایا۔جو انہوں نے دربار معلیٰ میں کہا تھا اور دو سو کے قریب ان کے ہم خیالوں کو عدالت میں جگہ دے دی گئی۔لیکن احمدیوں میں اس سے سوائے مدعا علیہ کے باوجود درخواست کرنے کے کسی احمدی کو اندر نہ آنے دیا گیا۔شیخ الجامعہ نے متواتر تین گھنٹے بیان جاری رکھا۔بیان کیا تھا بانی جماعت احمدیہ پر سب دشتم کی بوچھاڑ تھی۔غلط اور بے بنیاد الزامات کا مجموعہ تھا۔فاضل جج ساتھ ساتھ ہربات کی تائید کرتے جاتے اور شیخ الجامعہ جو بات بھی سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف منسوب کر کے پیش کرتے اس کے متعلق کہہ دیتے۔واقعی یہ صریح کفر ہے۔ایک دفعہ حج صاحب نے مدعا علیہ سے یہ بھی کہا کہ شیخ الجامعہ کی طرف منہ کر کے کھڑا ہو یا باہر نکل جا۔نیز یہ کہ تجھے ان باتوں کو ماننا پڑے گا جو شیخ الجامعہ نے بیان کی ہیں جب مدعاعلیہ نے اس سے انکار کیا تو کہ دیا یہ باتیں صحیح ہیں اور تجھے مانی پڑیں گی۔بالآخر شیخ الجامعہ کے طول طویل بیان کی نقل لے کر جرح کرنے کی ہدایت کی۔نقل لینے پر چونکہ تمہیں روپے کے قریب خرچ کرنا پڑتا تھا اس لئے مدعاعلیہ نے اپنی غربت کا عذر پیش کیا۔اس پر کہہ دیا گیا پھر مقدمہ کا فیصلہ تمہارے خلاف کر دیا جائے گا۔عدالت کا یہ رویہ دیکھ کر ید عاعلیہ نے انتقال مقدمہ کی درخواست دے دی جو رکھ لی گئی اور کہہ دیا گیا جو کچھ کرتا ہو کر لو۔اور ۱۴/ جولائی کی تاریخ پیشی مقرر کی گئی۔اجلاس کے اختتام پر جج صاحب نے پھر کہا کہ کل اگر نقل کی درخواست دے دو اور ۱۴ جولائی ۱۹۳۲ء کو جرح پیش کرو۔کوئی زیادہ موقعہ نہ دیا جائے گا۔قادیان سے دو مولویوں کو شہادت کے لئے خود منگاؤ۔لیکن تمہارے علماء کو شیخ الجامعہ کے بیان پر جرح کرنے کا کوئی حق نہ ہو گا اس کے بعد مد عاعلیہ کو با ہر نکل جانے کا حکم دے دیا گیا۔A4 ڈسٹرکٹ عدالت نے فریقین کی شہادتوں کے علمائے دیو بند کی شہادتیں اور ان پر جرح لئے ۲۰ تا ۲۳ / اگست ۱۹۳۲ء کی تاریخیں مقرر کی تھیں۔مدعیہ کی طرف سے مولوی سید محمد انور شاہ صاحب سابق صدر المدرسین دیو بند