تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 570 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 570

۵۵۶ الدین محمود احمد صاحب نے درخواست نمبر ۲۲۵ دی اور اس میں فیصلہ کا ایک بڑا حصہ حذف کرنے کی اسی بناء پر درخواست کی کہ اس حصہ کا قائم رکھنا قانونی اختیارات کا غلط استعمال اور درخواست کنندہ کے حق میں بے انصافی ہے کیونکہ وہ فریق مقدمہ نہیں تھا اور اس کے لئے اپنی بریت میں سید عطاء اللہ کی گواہی کے خلاف شہادت پیش کرنے کا کوئی موقعہ نہ تھا۔عرضی ۱۸۲ کے ساتھ چیف سیکرٹری حکومت پنجاب کی طرف سے ایک بیان حلفی بھی تھا جس میں سیشن جج کے عائد کردہ الزامات کی تردید کی گئی ہے۔اور صحیح واقعات بیان کئے گئے ہیں۔درخواست نمبر ۲۲۵ کے ساتھ بھی درخواست کنندہ کی طرف سے ایک بیان حلفی پیش کیا گیا ہے جس میں زیر اعتراض ریمارکس کی تغلیط کی گئی ہے اور فیصلے کو اس تقریر سے بھی زیادہ اشتعال انگیز بتایا ہے جس کی بناء پر سید عطاء اللہ شاہ بخاری کے خلاف مقدمہ دائر کیا گیا تھا۔(ترجمہ) ۳۷۵ رپورٹ سالانہ صیفہ جات صد را انجمن احمدیہ (یکم مئی ۱۹۳۵ لغایت ۳۰/ اپریل ۱۹۳۶ء صفحه ۱۵۱-۱۵۲) ۳۷۶ فیصلہ ہائیکورٹ مقدمہ سرکار بنام عطاء اللہ شاہ بخاری۔۳۷۷ رپورٹ سالانہ صیغہ جات صد را انجمن احمدیہ (یکم مئی ۱۹۳۵ لغایت ۳۰/ اپریل ۱۹۳۶ء) صفحه ۱۵۱-۱۵۲- ۳۷۸الفضل ۱۶ / جون ۱۹۳۹ء صفحه ۳-۱۴ خطبه جمعه فرموده ۹/ جون ۱۹۳۹ء) ایضاً ۱۳/ نومبر ۱۹۳۵ء صفحہ ۵-۶- الفضل ۲۴/ نومبر ۱۹۳۸ء صفحه ۳ ۳۷۹ الفضل ۲۴/ اپریل ۱۹۳۵ء صفحه ۱۰ کالم ۲ ۳۸۰۔اس افتراء پر لعنۃ اللہ علی الکاذبین کے سوا کیا کہا جا سکتا ہے مگر قارئین ذرا حضرت غلام فرید رحمتہ اللہ علیہ کی کتاب فوائد فریدید کے ترجمہ فیوضات فریدیہ کی یہ عبارت ملاحظہ فرمائیں۔ایک شخص (حضرت) خواجہ معین الدین چشتی کے پاس آیا اور عرض کیا کہ مجھے اپنا مرید بنا ئیں فرمایا لا الہ الا اللہ چشتی رسول الله (صفحه ۸۳ ناشر مکتبہ معین الادب ڈیرہ غازی خان) الفضل ۲۵/ اپریل ۱۹۳۵ء صفحہ ۲ کالم ۳۔۳۸۲ الفضل ۵/ نومبر ۱۹۳۵ء صفحه ۳ ۱۳۸۳ اپریل ۱۹۳۵ء میں مسلمانان ہند کے مشہور زعماء کی طرف سے برادران ملت سے اس بارہ میں ایک اپیل بھی شائع کی گئی تھی جو الفضل ۶/ اپریل ۱۹۳۵ء صفحہ ۲ پر درج ہے۔۳۸۴ یہ فقرہ جو خدا تعالی کے خاص تصرف سے حضرت خلیفہ المسیح الثانی کی زبان مبارک سے نکلا آئندہ چل کر احمدیت کی صداقت کا زنده و تابندہ نشان بن گیا۔جیسا کہ آئندہ معلوم ہو گا۔عجیب بات ہے کہ اس فقرہ میں دشمنوں کا لفظ تھا جس کے تحت احرار اور حکومت دونوں کے پاؤں کے نیچے سے زمین کا نکلنا مقدر تھا۔سو احرار مسلمانوں کی نگاہ میں سخت ذلیل ہوئے اور حکومت انگریزی کا اقتدار اس بر صغیر میں ختم ہو گیا اور ہندوستان کی سرزمین اس کے مقبوضات سے ہمیشہ کے لئے نکل گئی۔۱۳۸۵ الفضل ۳۰/ مئی ۱۹۳۵ء صفحه ۹۵ ٣٨٦ الفضل ۱۴ جون ۱۹۴۰ء صفحہ ۳ کالم ۳۸۷ الفضل ۱۷ جون ۱۹۳۵ء صفحہ ۲ کالم ۳-۴- ٣٨٨ الفضل ۱۵ نومبر ۱۹۳۵ء صفحه ۳- ۳۸۹۔رپورٹ سالانہ صیفہ جات صد را انجمن احمد به یکم مئی ۱۹۳۵ء لغایت ۳۷/ اپر مل ۱۹۳۶ء صفحه ۱۵۳- ٣٩٠ الفضل ۲۹/ اگست ۱۹۳۵ء صفحه ۵- ٣٩١ الفضل ۱۸ جون ۱۹۳۵ء صفحه ۸ کالم ۱ ۳۹۲ - الفضل ۵/ جولائی ۱۹۳۵ء صفحہ ا کالم ۱-۲- ۳۹۳- الفضل ۷ / جولائی ۱۹۳۵ء صفحہ ۲ کالم ۲ ۳۹۴- الفضل ۹ جولائی ۱۹۳۵ء صفحہ ۲ کالم ۲۔۳۹۵ الفضل ۱۰؍ جولائی ۱۹۳۵ء صفحہ ۲ کالم ۲- ۳۹۶۔اس بد طینت کا نام حنیفا- اور اس کے والد کا نام چوہر شاہ تھا کہتے ہیں جس روز یہ واردات ہوئی ڈھائی بجے سے لے کر وقوعہ کے