تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 566 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 566

تاریخ احمد بیت - جلد ۲ ۵۵۲ ۲۹۶ - الفضل ۲۵ اکتوبر ۱۹۳۴ء صفحه ۲ کالم ۲-۳ و الحکم ۲۸/ اکتوبر ۱۹۳۴ء صفحہ کالم ۳ - ملک حبیب الرحمن صاحب ریٹائرڈ پر پٹی انسپکٹر آف سکوتر حال ربوہ کا بیان ہے۔” غالبا ۱۹۳۶ء کی بات ہے جبکہ میں شجاع آباد میں تھا کہ ایک دفعہ جب حضرت خلیفتہ المسیح الثانی سندھ تشریف لے جارہے تھے تو میں نے اپنے چند ایک دوستوں سے عرض کیا کہ وہ اسٹیشن پر چل کر حضور کی زیارت کریں۔ان میں سے ایک ڈاکٹر چاند نرائن تھے جو ملتان کے رہنے والے تھے اور ان دنوں شجاع آباد سول ہسپتال کے انچارج تھے۔جب میں نے بعض دوسرے دوستوں کی موجودگی میں ڈاکٹر صاحب موصوف سے بھی حضور کی زیارت کرنے کو کہا۔تو وہ ایک سرکاری کام کی وجہ سے خود نہ جاسکنے کا افسوس کرنے لگے۔لیکن دوسرے ساتھیوں سے مخاطب ہو کر کہنے لگے کہ ان کے خلیفہ صاحب بھی بہت ہی نیک اور دھرماتما بزرگ ہیں میرے ایک ماموں صاحب پولیس میں تھانیدار ہیں جب ۱۹۳۴ء میں احرار نے قادیان میں ایک کانفرنس منعقد کی تو منجملہ دوسرے تھانیداروں کے وہ بھی وہاں ڈیوٹی پر تھے۔ان کا بیان ہے کہ ایک دن ان کے چند ایک دوستوں کو خیال پیدا ہوا کہ وہ حضرت صاحب کی زیارت کریں۔چنانچہ یہ لوگ حضرت صاحب کے دولت خانہ پر پہنچے اور زیارت کی درخواست کی۔جو منظور کرلی گئی۔مصافحہ کرنے کے بعد ہم نے عرض کیا کہ ہمیں کچھ عرصہ خاموشی سے حضور اپنی صحبت میں بیٹھنے کا موقعہ بخشیں۔چنانچہ ہم کچھ دیر وہاں بیٹھے رہے اور دوسرے اصحاب کو حضور سے ملاقات کرتے دیکھتے رہے اور رخصت کے وقت حضور سے عرض کیا کہ ہمیں کچھ نصیحت فرمائی جاوے۔ان کا بیان ہے کہ حضور نے فرمایا۔آپ لوگ ایک خدا کی پرستش کریں شرک نہ کریں۔مخلوق خدا سے نیکی کریں۔کسی پر ظلم نہ کریں وغیرہ وغیرہ۔حضور نے اختلاف مذاہب کا اشارہ بھی ذکر نہیں کیا اور یہ امران کے لئے بہت خوشی کا باعث ہوا۔ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ میرے ماموں ( تھانیدار) صاحب کا بیان ہے کہ اگر حضرت صاحب ایک عام دنیادار پیر کی طرح ہوتے تو ضرور کہتے کہ مسلمان ہو جاؤ ورنہ دوزخ میں جاؤ گے حضرت صاحب کی صحبت میں بیٹھ کر اور حضور کے کلمات طیبات سن کر ان پولیس افسروں کو یقین ہو گیا کہ یہ انسان ایک بہت بڑا انسان اور خدا رسیدہ بزرگ ہے اور اسے زیر کرنا کسی کے بس کا روگ نہیں۔(غیر مطبوعہ) ۲۹۷۔فیصلہ ہائیکورٹ مقدمہ سرکار بنام عطاء اللہ شاہ بخاری۔۲۹۸- بحوالہ سوانح حیات سید عطاء اللہ شاہ بخاری صفحه ۳۸ تا ۴۰ -۲۹۹ اخبار مدینه بجنور یکم نومبر ۱۹۳۴ء صفحه ۴ نمبر ۷۸ جلد ۲۳ ۳۰۰ ايضا صفحه ۸ ۳۰۱ تبلیغی کانفرنس قادیان کا پانچواں اجلاس مدینہ بجنور یکم نومبر ۱۹۳۴ء صفحه ۸ نمبر ۷۸ جلد ۲۳- ۳۰۲۔بحوالہ الفضل ۱۸ نومبر ۱۹۳۴ء صفحہ ۵ کالم ۳۔٣٠٣ الفضل یکم نومبر ۱۹۳۴ء صفحه ۲ کالم ۱تا۳- ٣٠٤ الفضل یکم نومبر ۱۹۳۴ء صفحه ۵-۶- ۳۰۵- الفضل یکم نومبر ۱۹۳۴ء صفحہ ۳ کالم ۱-۲- ٣٠٦ الفضل یکم نومبر ۱۹۳۴ء صفحه ۳-۴- ۳۰۷ الفضل یکم نومبر ۱۹۳۴ء صفحہ ۴۔۳۰۸- الفضل یکم نومبر ۱۹۳۴ء صفحه ۹ تا ۱۱ ٣٠٩ الفضل یکم نومبر ۱۹۳۴ء صفحہ ۱۲ کالم ۳۔١٠- الفضل یکم نومبر ۱۹۳۴ء صفحہ ۲ کالم - ۳۱۱۔اس خط کی نقل دفتر پرائیویٹ سیکرٹری ربوہ میں موجود ہے۔MR, BUTLER -۳۱۲ ۳۱۳- الفضل ۲۰/ دسمبر ۱۹۳۴ء صفحه ۱-۲- ۳۱۴ صدر انجمن احمدیہ کی رپورٹ سالانہ ( یکم مئی ۱۹۳۵ء لغایت ۳۰ اپریل ۱۹۳۶ء) سے پتہ چلتا ہے کہ جماعت احمدیہ کی طرف سے حکومت پنجاب اور حکومت ہند دونوں کو اس طریق کے سلسلہ میں ایک آزاد کمیشن بٹھانے کی بھی تجویز کی گئی۔مگر وہ قبول نہیں