تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 558
تاریخ احمدیت جلد ۶ ۵۴۴ آزادی حاصل ہے جس نے ایک عالم کو متحیر بنارکھا ہے جہاں تمام وہ اقتصادی و تمدنی و سیاسی برکتیں جو کسی آزاد قوم کو حاصل ہوئی چاہئیں اعتدال آمیز حریت کے ساتھ انہیں حاصل ہیں مسلمان ایسی جگہ ایک لمحہ کے لئے بھی ایسی حکومت سے بد ظن ہونے کا خیال نہیں کر سکتے۔اس مذہبی آزادی اور امن و امان کی موجودگی میں بھی اگر کوئی بد بخت مسلمان گورنمنٹ سے سرکشی کی جرات کرے تو ہم ڈنکے کی چوٹ سے کہتے ہیں کہ وہ مسلمان مسلمان نہیں۔(اخبار زمیندار لاہورا/ نومبر ۶۱۹ ) -۲- اگر خدانخواستہ گورنمنٹ انگلشیہ کی کسی مسلمان طاقت سے ان بن ہو جائے تو ایسی حالت میں مسلمانوں کو اسی طرح سرکار کی طرف سے جلتی آگ میں کود کر اپنی عقیدت مندی ثابت کرنی چاہئے جس طرح سرحدی علاقہ اور سمالی لینڈ کی لڑائیوں میں مسلمان فوجی سپاہیوں نے اپنے مذہبی اور قومی بھائیوں کے خلاف جنگ کر کے اس بات کا بارہا ثبوت دیا ہے کہ اطاعت اولی الا مر کے اصول کے وہ کس درجہ پابند ہیں۔(زمیندار ۱۲/ نومبر ۱۹۱۱ء) زمیندار اور اس کے ناظرین اور تمام وہ لوگ جو زمیندار لٹریری حلقہ اثر میں داخل ہیں گورنمنٹ برطانیہ کو سایہ خدا سمجھتے ہیں اور اس کی عنایات شاہانہ و الطاف خسروانہ کو اپنی دلی ارادت اور قلبی عقیدت کا کفیل سمجھتے ہوئے اپنے بادشاہ عالم پناہ کی پیشانی کے ایک قطرہ کی بجائے اپنے جسم کا خون بہانے کے لئے تیار ہیں اور یہی حالت ہندوستان کے تمام مسلمانوں کی ہے۔(۲۳ / تو میرا ۱۹ع) ۴۔اپنے بادشاہ کی اطاعت ، حکومت وقت کی جاں شاری سلطنت ابد مدت برطانیہ کے ساتھ محبت کے وہ ضروری اوصاف بھی بدرجہ اتم موجود ہو جائیں جن کے بغیر ہندوستان کا مسلمان اطاعت اولی الامر کے الہامی معیار میں پورا اترنے کے باعث کامل مسلمان نہیں کہلا سکتا۔(زمیندار ۹/ نومبر ۱۹۱۱ء) ۵- خدایا یہ بے شک اسلامی حکومت ہے اس حکومت کا سایہ ہمارے سروں پر ابد الآباد تک قائم رکھ۔خدا ہمارے شہنشاہ جارج خامس قیصر ہند کے آزاد عمر د اقبال سے ہمیں مستفیض ہونے کا موقع دے۔(زمیندار ۲/ اکتوبر ۱۹ء) -4 بحیثیت جمعیتو الالسلام کے آقا ہونے کے اس گھٹا ٹوپ تاریکی میں امید کی کوئی روشن کرن نظر آتی ہے تو وہ حضور ہمارج خامس شاہنشاہ خلد اللہ ملکم کی ذات بابرکات ہے جو دس کروڑ مسلمانوں کے آقا ہونے کے لحاظ سے ہماری دستگیری پر منجانب اللہ مامور کئے گئے ہیں۔(زمیندار ۲۸/ جولائی ۱۹۱۱ء) ے۔ہمیں ہمارا پاک مذہب بادشاہ وقت کی اطاعت کا حکم دیتا ہے ہم کو سرکار انگلشیہ کے سایہ عاطفت میں ہر قسم کی دینی و دنیوی برکتیں حاصل ہیں۔ہم پر از روئے مذہب گورنمنٹ کی اطاعت فرض ہے۔ہم انگریزوں کے پسینہ کی جگہ خون بہانے کے لئے تیار ہیں۔زبانی نہیں بلکہ جب وقت آئے گا تو اس پر عمل کر کے بھی دکھا دیں گے۔(زمیندار یکم نومبر ۱۹۱۱ء) مندرجہ بالا سات حوالے ظفر علی خاں کی گرفتاری (مولفہ خان کا بلی سے ماخوذ ہیں۔ہندوستان میں ہمارے دو بادشاہ ہیں ایک جارج خامس اور دو سرے محمد خامس - جارج خامس ہماری جان کے مالک ہیں لیکن محمد خامس کا قبضہ ہمارے دلوں پر ہے اور ہماری دلی تمنا ہے کہ دونوں تاجداروں کے تعلقات برادرانہ رہیں تاکہ ہماری جان حر میں ہمارے دل ناشاد سے الجھنے نہ پائے۔(نقوش لاہور آپ بیتی نمبر صفحہ ۷۳۹) مولانا ظفر علی خاں صاحب نے جارج خامس کی مدح میں ۱۹۱۲ء میں یہ قصیدہ بھی لکھا۔ہے شیریں نام ایسا بادشاہ جارج خامس کا ندوئیت ہے زبانوں میں صداقت میں بیانوں میں ودیعت ہے شہنشاہ کی عقیدت آفریں الفت سروں میں اور سینوں میں دلوں میں اور جانوں میں دلوں میں جو کچھ آئے ترجماں اس کی زبانیں ہوں کہاں حاصل تھیں یہ آزادیاں اگلے زمانوں میں یہ سچ ہے ہم مسلمانوں کو نعمت میسر تھی شمار اس کا ہے لیکن قرن اول کے نشانوں میں نظر آئی تری گل الی شان دونوں کو برہمن کو صنم خانہ میں مسلم کو اذانوں میں