تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 557 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 557

تاریخ احمدیت۔جلد ۶ ۱۲۶ خطبات احرار صفحه ۳۴-۳۵ ۱۲۷- ايضاً صفحه ۲۰ ۵۴۳ ۱۹۸ احراری لیڈروں کا مشترکہ بیان مطبوعہ روزنامہ طلاپ ۱۳/ اگست ۱۹۴۴ء بحوالہ فسادات ۱۹۵۳ء کا پس منظر- صفحه ۱۹ از ملک فضل حسین صاحب) - اخبار افضل سهارنپور ۲۱/ ستمبر ۱۹۴۵ بحوالہ فسادات ۱۹۵۳ء کا پس منظر صفحه ۵-۶- ۱۷۰ خطبات احرار صفحه ۴۲ ۱۷ اخبار آزاد تشکر نمبر ۳۰/ اپریل ۱۹۵۱ء صفحه ۱۴ کالم ۰۲ ۱۷۲- روزنامہ نوائے پاکستان لاہورے / اکتوبر ۱۹۵۷ء صفحہ ۲ کالم ۲- ۱۷۳۔جہاں تک حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور جماعت احمدیہ کے انگریزی ایجنٹ اور انگریزی جاسوس قرار دیئے جانے کا تعلق ہے احرار نے اس الزام کو سب سے زیادہ اچھالا اور کانگریسی تکنیک کے عین مطابق اسے بہت ہوادی۔مفکر احرار چوہدری افضل حق صاحب نے تاریخ احرار میں اس الزام کی بنیاد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ایک تحریر پر رکھی ہے۔چنانچہ لکھتے ہیں۔بقول مرزا غلام احمد احمدیت برٹش حکومت کا خود کاشتہ پودا تھی ( تاریخ احرار صفحه (۴۵) حقیقت یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کسی کتاب کسی اشتہار کسی خط بلکہ کسی تحریر میں ایسے الفاظ موجود نہیں۔یہ محض غلط اور بہتان اور افترا ہے جو احمدیت کے خلاف سیاسی جنگ لڑنے والوں کی طرف سے آج تک بے دریغ استعمال کیا جارہا ہے۔جس کی وجہ چوہدری افضل حق صاحب کے الفاظ میں اس کے سوا اور کیا ہو سکتی ہے کہ ”جھوٹی خبروں کے اصرار اور تکرار کو بھی پروپیگنڈے کے فن کا اہم جزو قیاس کیا جاتا ہے"۔( تاریخ احرار صلح ) ۱۷۴ آزاد کانفرنس نمبر ۲۶ / دسمبر ۱۹۵۰ء صفحه ۳۰ ۱۷۵ مولوی شاء الله صاحب امرتسری نے اہلحدیث (۲۷) مئی ۱۹۳۲ء صفحہ ۳ کالم ۲) میں لکھا کچھ شک نہیں کہ جہاد ایک سیاسی مسئلہ ہے جس کا تعلق افراد رعایا سے نہیں بلکہ حکومت سے ہے یعنی یہ کام حکومت اسلام کا ہے افراد اسلام کا نہیں پس شرط تو اس میں یہی ضروری ہے کہ بادشاہ مسلم ہو اس کے حکم سے جو جنگ ہو وہ جہار ہے۔۱۷۲ نور الحق حصہ اول صفحہ ۴۵ طبع اول ۷۷۔حقیقتہ المهدی صفحہ 19 ۱۷۸ مکتوب حضرت مسیح موعود نام حضرت میر ناصر نواب صاحب مندرجہ رسالہ درود شریف مولفہ حضرت مولانا محمد اسمعیل صاحب فاضل حلالپوری ) ۱۷۹- آزاده ۳/ اپریل ۱۹۵۱ و صفحه ۱۴ ۱۸۰- فتح اسلام صفحه ۰۸ ۱۸۱ مشاہدات کامل دیاغستان صفحه ۴۰ ۱۸۳ مشاہدات کامل و یاغستان صفحه ۲۸۰۲۷ از مولوی محمد علی قصوری) " ۱۸۳ مولوی صاحب موصوف نے اس کتاب کے سرورق پر لکھا۔" پنجاب کے نامور ہر دلعزیز لفٹنٹ گورنر سر چارلس ایکسن صاحب بہادر کے۔سی۔ایس آئی وغیرہ وغیرہ نے اپنے نام نامی سے اس کا ڈیڈیکیٹ ہو نا منظور فرمایا "۔۱۸۴- سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری نے تبلیغی کانفرنس قادیان کے خطبہ صدارت میں فرمایا۔میری صدارت میرے دوستوں کا عطیہ ہے ورنہ اس منصب کا حقدار مولانا ظفر علی خاں ایڈیٹر زمیندار ہیں جنہوں نے روز اول سے مرزائیت کی جڑوں پر کلہاڑا رکھا ہوا ہے۔وہ اس فن میں ہمارے استاد ہیں"۔(مدینه بجنور یکم نومبر ۱۹۳۴ء صفحه ۴ کالم ۲) ۱۸۵ بطور نمونہ چند تحریرات ملاحظہ ہوں۔ا ہندوستان دار السلام اور دار الاسلام ہے جہاں دھڑلے سے مسجدوں میں اذانیں دی جاتی ہیں۔جہاں پادریوں کے پہلو بہ پہلو اسلامی متاد اور واعظ تبلیغ دین مبین کا فرض انجام دے رہے ہیں۔جہاں پریس ایکٹ کے موجود ہونے پر لوگوں کو تحریر و تقریر کی وہ