تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 556
تاریخ احمدیت جلد ۷ ۵۴۲ حصول کی خاطر اپنے آپ کو مسلمان کہلانا شروع کر دیا ہے"۔(پاکستان اور اچھوت صفحه ۱۹ و صفحه ۸۶- مولفہ چودھری افضل حق صاحب مفکر احرار) ناشر مکتبہ اردولاہور۔طبع اول) اسی طرح سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری نے مسلمانوں کی نسبت کہا۔”ہم نے اسلام کے نام سے جو کچھ اختیار کر رکھا ہے وہ تو صریح کفر ہے میں کمیونزم سے کیوں ٹکراؤں۔وہ کونسا اسلام ہے جس پر کمیونزم ضربیں لگا رہا ہے۔ہمارا اسلام تجھ کو امیدیں خدا بتوں تا تو سہی مجھے نومیدی اور کافری کیا ہے؟ ہمارا تو سارا نظام کفر ہے قرآن کے مقابلہ میں ہم نے ابلیس کے دامن میں پناہ لے رکھی ہے"۔(احرار کا آرگن آزاده دسمبر ۱۹۴۹) شاہ صاحب کے سیاسی پیرو مرشد اور امام الہند مولانا ابو الکلام صاحب آزاد نے تذکرہ میں مسلمانوں کے کفر و ضلالت کی یہ تفصیل لکھی ہے کہ۔یہودیوں کی مغضوبیت ، نصاری کی ضلالت ، مشرکین کی بت پرستی ائمہ مضلین کی کثرت دجاجلہ فتن و دعاة بدعت کا احاطہ اقتداء بغیر سنت اجراء بغیر بدى الانبیاء تفرق و مذهب مثل یهود اور غلو و اطراء مثل نصاری فتنہ شبہات یونان اور فتنہ شہوات عجم ، فتنہ تماثیل عبدۃ الاصنام اور فتنہ قبور عا کفین کنائس ان میں سے کوئی نحوست اور ہلا کی ایسی نہیں ہے جو مسلمانوں پر نہ چھا چکی ہو اور کوئی گمراہی نہیں جو اپنے کامل سے کامل اور شدید سے شدید درجہ تک اس امت میں بھی نہ پھیل چکی ہو۔اہل کتاب نے گمراہی کے جتنے قدم اٹھائے تھے مگن گن کر مسلمانوں نے بھی وہ سب اٹھائے حتی کہ لود خلوا جحر ضب لدخلتموها کا وقت بھی گزر چکا اور آج ہم اپنی آنکھوں میں سب کچھ دیکھ رہے ہیں۔وہ وقت بھی کب کا آچکا ہے کہ يلحق قبائل من امتى بالمشركين اور حق تعبد من امتی الاوثان اور تعبد اللات و العربی ہماری جائیں اور ہماری رو میں اس صادق مصدوق پر قربان کہ واقعی اور بچ بچ مسلمان مشرکوں سے ملحق ہو گئے اور دین توحید کا دعوی کرنے والوں نے بہت پرستی کی ساری ادائیں اور چالیس اختیار کرلیں اور جس لات اور عزیٰ کی پوجا سے دنیا کو نجات ولائی گئی تھی اس کی پوجا پھر سے شروع ہو گئی"۔(تذکرہ صفحہ ۲۷۸ طبع دوم مولفہ مولانا ابو الکلام صاحب آزاد) ناشر کتابی دنیا لاہور) بالا خر جناب سید ابو الاعلیٰ مودودی امیر جماعت اسلامی" کی رائے بھی ملاحظہ ہو۔یہ انبوہ عظیم جس کو مسلمان کہا جاتا ہے اس کا حال یہ ہے کہ اس کے ۹۹۹ فی ہزار افراد نہ اسلام کا علم رکھتے ہیں۔نہ حق اور باطل کی تمیز سے آشنا ہیں نہ ان کا اخلاقی نقطہ نظر اور ذہنی رویہ اسلام کے مطابق تبدیل ہوا ہے۔باپ سے بیٹے اور بیٹے سے پوتے کو بس مسلمان کا نام ملتا چلا آرہا ہے"۔(مسلمانان ہند کی سیاسی کشمکش صفحه ۱۳۰ مولفہ سید ابو الاعلیٰ صاحب مودودی) ناشر مکتبہ جماعت اسلامی دار الاسلام پٹھانکوٹ) "یہاں جس قوم کا نام مسلمان ہے وہ ہر قسم کے رطب دیا بس لوگوں سے بھری ہوئی ہے کیریکٹر کے اعتبار سے جتنے ٹائپ کا فر قوموں میں پائے جاتے ہیں اتنے ہی اس قوم میں بھی موجود ہیں “۔(ایضا صفحہ ۱۶۰) ۱۵۹ زمیندار ۶/ اگست ۱۹۳۵ء صفحه ۰۶ ہماری قومی جد و جهد صفحه ۷۰ تا ۷۲ (مولفه عاشق حسین صاحب بٹالوی) مطبوعہ جون ۱۹۳۳ء۔۱۱ بحواله الفضل ۱۴ مئی ۱۹۳۵ء صفحه ۳ کالم ۲۲ بحواله الفضل ۲۴ مئی ۱۹۳۵ء الفضل ۲۴/ مئی ۱۹۳۵ء صفحه ۱-۲- -۱۲۴ تاریخ اجرار صفحه ۱۴۴-۱۴۳ مولفه مفکر احرار چوہدری افضل حق صاحب ) ۱۹۵ تاریخ احرار صفحه ۶۰