تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 553
تاریخ احمد جلد ۷ ۵۳۹ اے جواں سال مہاراجہ کہ برم کشمیر اے کہ آراستہ ہے نامہ عظمت تیرا ہے ہی میری تمنا کہ تشکر کی زباں نچہ ظلم کو فریاد ترے عدل سے ہو کو مجتی ہے ترے اخلاق کے افسانوں سے بخت و دولت کے چمکتے ہوئے عنوانوں سے کبھی عمده بر آہو ترے احسانوں سے که وہ ہے دور غریبوں کے گریبانوں تو ہو اس آہ جہاں سوز کی جیتی تاثیر جو نکلتی ہے غریبوں کے سید خانوں سے خود رعایا تری حاجب ہو ترے ایوان کی نا کہ مظلوم ہراساں نہ ہوں دربانوں سے نہ مسلمان کو برہمن سے رہے کوئی گلہ نہ برہمن کو شکایت ہو مسلمانوں سے ہو آوازه تلطف کا بلند تو مارا کا پیام آئے صنم خانوں سے مگر آج مسلمانوں سے گر مساجد سے ہندوؤں سے ہے یقیناً ترے گھر کی رونق تیری طاقت ہے جن کی دیوانگی سیزده صد سالہ کا جوش داد لینے کو ہے آفاق کے فرزانوں سے یہ جنوں کیا ہے فقط اس مئے باقی کا جو چھلکتی ہے مساوات کے پیمانوں سے مساوات کہ ہے حاصل آزادی فکر نئی تہذیب نے جو چھین لی انسانوں سے وه کردار شرط اسلام ہے تعلیم و رضا صلح و سلام سبق سیکھ لے توحید کے دیوانوں سے لطف شاہانہ ترا چھین لے کر دل ان کا تجھ پہ قربان دلوں سے وہ ہوں اور جانوں سے یہ وہ سر بیچنے والے ہیں کہ تو ان کا ہو تو کچھ بھی تجھے اندیشہ ہو بیگانوں سے نگارستان ظفر علی خاں صفحہ ۱۱۱-۱۱۲) ۱۳۲ تحریک کشمیر کے دوران احمدیوں کے خلاف جنگ کرنے کی صحافتی نقطہ نگاہ سے بھی ایک خاص وجہ تھی جس کی تفصیل "زمیندار" کے نامہ نگار خصوصی مقیم سرینگر کے الفاظ میں یہ ہے کہ۔خاکسار راقم الحروف نے اپنے راز دار رفقائے کار سے مشورہ کیا کہ قادیانی ہمدردی اور تبلیغ کا اثر صرف ایک ہی طریق سے بے کار ثابت ہو سکتا ہے کہ چند اشخاص جاکر بشیر الدین محمود کو کہیں کہ کشمیر کے حالات الفضل میں چھپنے پر مسلمان معترض ہیں اور ان کا خیال ہے کہ یہ محض پروپیگنڈا کرنے کی خاطر کیا جارہا ہے اس لئے تحریک کشمیر کے سلسلہ میں ایک علیحدہ اخبار کشمیر کمیٹی جاری کرے چنانچہ ایک وند خفیہ طور پر گیا۔کشمیر کمیٹی کے دیگر ارکان جو دھوکہ سے اس میں شامل کر لئے گئے تھے ) نے اس تجویز کو پسند کیا۔لیکن حضرت خلیفہ صاحب نہ مانے۔مدراس کے طویل دورہ سے جب مولانا ظفر علی خاں واپس تشریف لائے تو انہیں راقم الحروف کا وہ خط دکھایا گیا جس میں قادیانی پراپیگنڈا کا تار پود بکھیر کے رکھ دیا گیا تھا۔اس سے متاثر ہو کر مولانا نے زمیندار میں تلخ حقائق کا مقالات افتتاحیہ کے ذریعہ دریا بہا دیا زمیندار قادیان نمبر اگست ۱۹۳۷ء صفحہ ۲۳) یہاں یہ بتانا بھی مناسب ہو گا کہ اخبار زمیندار نے اپنی ۲۸/ نومبر ۱۹۳۱ء کی اشاعت میں ایک مضمون شائع کیا جس میں لکھا تھا کہ کشمیر کمیٹی نے عہدہ صدارت و سیکرٹری کو قادیانی اصحاب کے سپرد کر کے سخت غلطی کی ہے مرزائیت سے ہندو ہو جانا بہتر ہے کہ دنیا کی بہت سی موجودہ تکالیف کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔۱۳۳- الفضل ۹ / فروری ۱۹۳۲ء صفحه ۱۰ کالم ۲-۳- ۱۳۴ بحواله الفضل ۲۶/ جنوری ۱۹۳۱ء صفحہ ۸ کالم ۳