تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 38 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 38

تاریخ احمدیت جلد ۲ ۳۸ قرآن میں نبوت کے بند ہونے کا کوئی ثبوت ہے ؟ اس کا جواب بھی وزیر اعلیٰ صاحب نے خود ہی دیا۔اور وہ یہ کہ ہم سن چکے ہیں۔مولوی صاحب نے جب کہا کہ مجھے بھی سن لینے دیا جائے تو ایک آیت پیش کی گئی۔لیکن جب مولوی صاحب اس کا صحیح مطلب بیان کرنے لگے تو کہہ دیا اب بس کرو اور چلے جاؤ۔AY دربار معلیٰ کی کارروائی قصہ کوتاہ دربار معلیٰ نے ہائی کورٹوں کے فیصلوں کو مسترد کرتے ہوئے اپنی ریاست کے شیخ الجامعہ مولوی غلام محمد صاحب کو بطور گواہ عدالت طلب کیا اور ان کا یہ بیان درج کیا کہ "اگر کسی شخص کا قادیانی عقائد کے مطابق یہ ایمان ہو کہ حضرت محمد مصطفی ﷺ کے بعد کوئی اور نبی آیا ہے اور اس پر وحی نازل ہوئی تو ایسا شخص چونکہ ختم النبوة حضرت رسول کریم اللہ کا منکر ہے اور ختم النبوۃ اسلام کی ضروریات میں سے ہے لہذاوہ کافر ہے اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔اس بیان پر دربار نے یہ رائے ظاہر کی کہ ”مولوی صاحب موصوف نے بطور دلائل کئی ایک آیات قرآن شریف پیش کیں۔جن میں اچھی طرح واضح کر دیا گیا ہے کہ آنحضرت ا کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا"۔پھر مقدمہ کو مزید " تحقیقات کا محتاج" قرار دیتے ہوئے لکھا کہ مدعا علیہ کو بھی موقع دینا چاہئے۔کہ شیخ الجامعہ کے بالمقابل اپنے دلائل پیش کرے اس لئے ہم مزید تحقیقات کے لئے یہ مقدمہ پھر عدالت صاحب ڈسٹرکٹ جج بہاولپور میں بھیجتے ہیں اور ہدایت کرتے ہیں کہ یہ مقدمہ بروئے شرع شریف فیصلہ کیا جائے "۔AL - مقدمہ دوبارہ ڈسٹرکٹ عدالت میں ڈسٹرکٹ جج صاحب اپنے گزشتہ فیصلہ میں صاف لکھ چکے ہیں کہ موجودہ فیصلہ قوانین و آئین کی روشنی میں ہے اگر شریعت کے نقطہ نگاہ سے مقدمہ پر نظر ڈالی جاتی تو ہمارا فیصلہ مختلف ہو تا۔اس بناء پر مد عاعلیہ کے مختار مولانا جلال الدین صاحب شمس نے عدالت عالیہ کو لکھا کہ جو عدالت پہلے اپنی رائے کا اظہار کر چکی ہے اس میں دوبارہ اسے پیش کرنا صحیح نہیں۔مگر کچھ شنوائی نہ ہوئی۔بہر کیف اس مرحلہ پر یہ مقدمہ ایک نئے دور میں داخل ہو گیا اور فریقین کی طرف سے اس کے لئے زور شور سے تیاریاں شروع کر دی گئیں جیسا کہ فیصلہ مقدمہ بہاولپور میں لکھا ہے کہ۔واپسی پر اس مقدمہ میں فریقین کے ہم مذہب اور ہم خیال اشخاص کی فرقہ بندی شروع ہو گئی اور تقریباً تمام ہندوستان میں اس کے متعلق ایک ہیجان پیدا ہو گیا۔اور طرفین سے ان کی جماعت کے بڑے بڑے علماء بطور مختاران فریقین و بطور گواہان پیش ہونے لگے ان کے اس طرح میدان میں آنے