تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 550
جلد ا ۵۳۶ آزادی صفحه ۱۹-۱۷) (ناشر انور عارف مالک مکتبہ ماحول کراچی بار دوم نومبر ۱۹۵۹م) مولوی محمد علی صاحب قصوری نے اپنی کتاب مشاہدات کابل دیا خستان کے صفحہ 49 پر جناب مولانا ابو الکلام صاحب آزاد کی نسبت لکھا ہے کہ۔ہم نے تو آزما کر دیکھا کہ اکثر تحریکیں لیڈروں کی ناعاقبت اندیشی یا بزدلی سے ناکام ہو گئیں ہندوستان میں ہم نے مسلمانوں کی مذہبی تنظیم کی تحریک اٹھائی مگر اس میں بھی غلطی یہ کی کہ مولانا ابو الکلام کو امام الہند بن کر تمام تحریک ان کے بل بوتے پر کھڑی کی۔لیکن عین وقت پر مولانا آزاد کی بزدلی نے تمام کھیل بگاڑ دیا اور وہ سارے کا سارا محل جس کی تعمیر پر لاکھوں روپیہ صرف ہو ا تھا اور سینکڑوں مسلمانوں نے اسے اپنے خون سے سینچا۔مولانا کی گریز پانی کی وجہ سے آن کی آن میں دھڑام سے نیچے اگر ا۔ہے۔سید عطاء اللہ شاہ بخاری صفحہ ۱۹ مرتبہ جناب آغا شورش کا شمیری) اخبار مجاہد لا ہو ر ار مئی ۱۹۳۶ء صفحہ ۴ کالم ۱-۲- ۷۸ جهنستان ( مجموعہ کلام مولوی ظفر علی خاں صفحہ ۱۲۵ ۷۹ صفحه ۲ ۸۰ صفحہ سے ۰۸۰ ۸۱- پیغام صلح صفحه ۲۸-۲۹- ۸۲- سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی یہ پینگوئی کس طرح تحریک خلافت کے زمانے میں پوری ہوئی اس پر کچھ کہنے کی ضرورت نہیں یقینا یہ ایک بڑا نشان ہے۔۸۳ اشتهار ۱۲ مارچ ۱۸۹۷ء ( تذکره طبع دوم صفحه ۳۰۲) تذکرۃ الشہادتین صفحه ۲۶ مطبوعہ ۱۹۰۳ء- ۸۵ اخبار پر کاش لاہو ر ۲۶/ اپریل ۱۹۲۵ء صفحه ۱۱- اخبار آریہ گزٹ رشی بوده نمبر ۱۸/۲۵ پھاگن ۱۹۸۶ یکرمی صفحه ۴۱-۴۲- ۸۷ پر کاش ۲۳ / فروری ۱۹۳۰ء صفحه ۹ آریہ سماجی تحریک کی مزید تفصیل کے لئے ملک فضل حسین صاحب کی مشہور و معروف کتاب ہندو راج کے منصوبے ملاحظہ ہو۔مندرجہ بالا اقتباسات اسی قابل قدر اور فاضلانہ کتاب سے اخذ کئے گئے ہیں۔-۸۹ فتنہ ارتداد اور پولٹیکل قلابازیاں (از چوہدری افضل حق صاحب مفکر احرار صفحه ۲۴۔ناشر دار التجلید اردو بازار لاہور تحریک قادیان صفحه ۱۲۰۹ از مولانا سید حبیب صاحب مد بر سیاست) ه بدر ۱۸/ جون ۱۹۰۸ء صفحه ۳۰۲ ۹۲ ہمارے فرقہ وارانہ فیصلے کا استدراج صفحه ۱۰۳ تا ۱۰۵ ۹۳ مولوی ثناء اللہ صاحب جیسے عالم نے بھی فتوی دیا کہ حکام وقت کے خلاف سول نافرمانی اسلام کے خلاف ہے۔چنانچہ انہوں نے لکھا۔ہمارے ملک ہندوستان میں جو سول نافرمانی جاری ہوئی ہے اس کے بانی کانگریسی لیڈر گاندھی جی ہیں۔ارباب سیاست سیاسی رنگ میں جو دل چاہے کریں ہمارا ان سے روئے سخن نہیں ہے۔ہم بحیثیت مذہب جانچتے ہیں تو سول نافرمانی کر کے جیل کی سزا بھگتنے کو شریعت مطہرہ کے خلاف پاتے ہیں۔اہلحدیث ۶ اکتوبر ۱۹۳۹ء صفحہ ۳ کالم ۳۔-۹- خلیفہ قادیان صفحه ۱۵ از ارجن سنگے ایڈیٹر تین امرتسر شائع کردہ راجپوت یک ایجینسی کٹڑہ جیل سنگھ امرتسر ۹۵- خلیفہ قادیان از ارجن سنگھ صاحب ایڈیٹر تکمین (امرتس) صفحہ ۱۷۱۶ یہ حقیقت اتنی واضح اور نمایاں تھی کہ چین کے ایک موقر روزنامہ دی کیٹن ڈیلی سن THE CONTON DAILY FUN) نے ۱۹ اکتوبر ۱۹۳۵ء کی اشاعت میں لکھا۔ہندوستان میں رولٹ ایکٹ ایجی ٹیشن تحریک عدم تعاون اور کانگریس کی شورش کے زمانوں میں جماعت احمدیہ نے پورے جوش اور سرگرمی سے گورنمنٹ کی تائید کی اور حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کی سرگرمیوں سے شمالی ہند کے مسلمانوں کو علیحدہ رکھنے والی زیادہ تربیبی جماعت تھی خلیفتہ المسیح جو اس جماعت کے امام ہیں اور جنہیں ان کے پیرو اپنا روحانی پیشوا یقین کرتے ہیں اس وقت واحد مسلمان لیڈر تھے جنہوں نے نہرو رپورٹ اور کانگریس کے عام رویہ کے