تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 545
تاریخ احمدیت۔جلد ؟ دو سرا باب ۵۳۱ حواشی ملی اخطبہ جمعہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی مطبوعه الفضل ۱۳۹ نومبر ۱۹۳۵ء صفحه ۹ رپورٹ مجلس مشاورت منعقده ۱۵-۱۲-۱۷/ اپریل ۱۹۲۷ء صفحه ۱۸۰۱۷۹ مطبوعہ مارچ ۱۹۲۸ء طبع اول (مرتبه شیخ یوسف علی صاحب بی۔اے سیکرٹری مجلس مشاورت قادیان دار الامان) پر تاپ ۱۹ مارچ ۱۹۲۷ء بحواله تاریخ انقلابات عالم جلد دوم صفحه ۴۲۲- - ڈاکٹر ابو اللیث صاحب صدیقی پی۔ایچ۔ڈی کے نزدیک ۱۸۵۷ء جنگ آزادی تو ضرور تھی لیکن وہ اس کو جہاد قرار دینے میں اس رجہ سے متامل ہیں کہ اگر ۱۸۵۷ء کے انقلاب کو انگریزوں کے خلاف مسلمانوں کے جہاد کی تحریک قرار دے دیا جائے تو پھر اس تحریک کی عمومیت اور ہمہ گیری برقرار نہیں رہتی۔(مقدمہ بر کتاب اسباب بغاوت ہند صفحہ ۷۶ تصنیف سرسید احمد خان مرحوم - ناشرار دو اکیڈمی سندھ مشن روڈ کراچی) ه نقش حیات ” جلد دوم " میں مولانا حسین احمد صاحب مدنی نے اس ہنگامہ کو جہاد حریت سے موسوم کیا ہے۔تحریک آزادی کے ان مجاہدین کے چشم دید واقعات را قم الدولہ ظہیر دہلوی شاگر د ذوق نے اپنی کتاب داستان غدر میں لکھتے ہیں جو پڑھنے سے تعلق رکھتے ہیں ایک جگہ لکھا ہے۔ان غارت گروں میں وہ لوگ ہیں جو میرٹھ سے باغی ہو کر پلٹن اور سوار آتے ہیں اور ان کے ساتھ والے جو بد معاش ہمراہ ہوئے ہیں اور ان کے شہر کے کوئی چمار دھوبی ستے کنجڑے قصاب کاغذی محلہ کے کاغذی اور دیگر بد معاشمان شہر پہلوان بانڈی باز اٹھائی گیرے جیب کترے وغیرہ وغیرہ سب رذیل ہیں کوئی شریف خاندانی ان کے ساتھ شامل نہیں ہیں۔جو نیک معاش و اشراف ہیں وہ اپنے گھروں کے دروازے بند کئے بیٹھے ہیں ان کو یہ خبر تک نہیں کہ شہر میں کیا ہو رہا ہے۔(صفحہ ۱۰۸-۱۰۹) اسی طرح شمس العلماء خواجہ حسن نظامی صاحب دہلوی نے اپنی کتاب دہلی کی جان کنی میں لکھا ہے۔اس کتاب میں انگریزی فوج کے مظالم کا تذکرہ زیادہ آئے گا مگر اس موقعہ پر یہ اقرار کرنا قرین انصاف ہے کہ ہندوستانی فوج والوں اور دیسی باشندوں نے بھی ندر کے شروع میں سفاکی اور بے رحمی کو حد سے بڑھا دیا تھا اور ان کے ستم ایسے ہولناک تھے کہ ہر قسم کی سزا ان کے لئے جائز کسی جاسکتی ہے انہوں نے بے کس عورتوں کو قتل کیا انہوں نے حاملہ عورتوں کو ذبح کرنے سے دریغ نہ کیا انہوں نے دودھ پیتے بچوں کو اچھالا اور سکین کی نوکوں پر روک کر بے زبانوں کو چھید ڈالا۔وہ حاملہ عورتوں کے پیٹ میں تلوار میں بھونک دیے تھے غرض کوئی ظلم و ستم ایسا نہ تھا جو ان کے ہاتھ سے انگریزوں اور ان کے بیوی بچوں پر نہ ٹوٹا ہو۔(ویلی کی جان کئی صفحہ ۲۲- ۲۳) ہندو پور بیوں کی سفاکیوں کا نقشہ نواب مرزا صاحب داغ دہلوی نے کیا خوب کھینچا ہے غضب میں آئی رعیت بلا میں شہر آیا یہ پورے نہیں آئے خدا کا قہر آیا زباں سے کہتے ہوئے دین دین آئے لعین کوئی تھا تو کوئی گنگا یہ جانتے ہی نہ تھے چیز کیا ہے دین متین کئے ہیں قتل زن و بچہ کیسے کیسے حسین روا نہ تھا کسی مذہب میں وہ جو کام کیا غرض وہ چو ماتا دین دین کام کیا۔کام ہی تمام کیا منقول از رساله ضیاء الاسلام مراد آباد (۵/۶ (بحوالہ ہندو راج کے منصوبے صفحہ ۶۸ حاشیہ طبع ششم (مولفه ملک فضل صاحب) کاغذ است پارلیمنٹ ۱۸۵۷ء کو الہ ہندو راج کے منصو ہے۔صفحہ ۶۷ حاشیہ۔