تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 37
تاریخ احمدیت جلد ۷ ۳۷ اب جو ریاست بہاولپور کے دربار معلی میں یہ مقدمہ پہنچا تو وزیر اعلیٰ صاحب نے پہلی پیشی میں حکم دیا کہ ریاست کے مفتی (مولوی غلام محمد صاحب شیخ الجامعہ عباسی) تنسیخ نکاح کے دلائل پیش کریں یہ مفتی صاحب اپنے وعظوں اور خطبوں میں احمدیوں کے خلاف لوگوں کو اشتعال دلانے میں خاص شہرت رکھتے تھے۔دربار معلی کارویہ دربار معلیٰ کی اس تجویز پر مد عاعلیہ نے درخواست دی کہ اسے بھی کسی عالم دین کو عدالت میں پیش کرنے کا موقعہ دیا جائے۔تا عدالت فریقین کے علماء کے دلائل سن کر صحیح نتیجہ پر پہنچ سکے۔جناب وزیر اعلیٰ صاحب نے اس سے انکار کر دیا۔مگر خاص جد و جہد کے بعد مثل مقدمہ پر کئی مواقع پر انہیں یہ نوٹ کرنا پڑا کہ احمدی فریق بھی اپنا عالم پیش کر سکتا ہے۔لیکن باوجود اس نوٹ کے جب مدعاعلیہ نے اس سلسلہ میں مولوی فضل الدین صاحب کے پیش ہونے کی باقاعدہ درخواست دی تو وہ واپس کر دی گئی۔تاہم قادیان سے جماعت کے ایک اور عالم مولانا غلام احمد صاحب بد و ملی مولوی فاضل بھیج دیئے گئے۔۲۱ / جنوری ۱۹۳۲ء کو دربار معلی " میں پیشی تھی فریقین مقدمہ کو بلانے سے قبل قریباً پون گھنٹہ تک وزیر اعلیٰ اور مفتی صاحب میں گفتگو ہوتی رہی۔پھر مد عاعلیہ کو بلا کر وزیر اعلیٰ نے فرمایا کہ تم مفتی صاحب پر اعتراض کرد مد عاعلیہ نے کہا کہ میں بھی اپنی طرف سے کوئی عالم پیش کرنا چاہتا ہوں۔پہلے تو وزیر اعلیٰ صاحب نے اس کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔مگر پھر اس کی اجازت دے دی۔اس پر جب مولوی صاحب موصوف پیش ہوئے۔تو وزیر اعلیٰ صاحب نے ان سے بھی یہی کہا کہ مفتی صاحب پر اعتراض کرو۔مولوی صاحب نے کہا۔مفتی صاحب کا بیان میرے سامنے نہیں۔میں کس طرح اعتراض کر سکتا ہوں ؟ وزیر اعلیٰ صاحب نے مفتی صاحب کی خود ہی ترجمانی کرتے ہوئے کہا۔مفتی صاحب کہتے ہیں کہ اب جو شخص کسی نبی کے آنے کا قائل ہو وہ کافر ہے۔اس پر اعتراض کرد - مولوی صاحب نے اس پر مفتی صاحب سے پوچھا۔کیا وہ اولیاء ابدال اور صوفیا ء جو مانتے آئے ہیں کہ نبوت جاری ہے وہ سب کا فر تھے ؟ اس پر بجائے اس کے کہ مفتی صاحب کوئی جواب دیتے وزیر اعلیٰ صاحب نے کہا کہ یہ طے ہو چکا ہے کہ قرآن سے بات پیش کی جائے گی سلف صالحین کا ذکر نہ ہو گا۔مولانا غلام احمد صاحب نے کہا بہت اچھا۔مفتی صاحب بتا ئیں قرآن کریم میں کہاں لکھا ہے کہ جو کسی نبی کی آمد کا قائل ہو وہ کافر ہے ؟ اس پر وزیر اعلیٰ صاحب نے پھر دخل دے کر کہا یہ سوال نہیں بلکہ کسی آیت سے ثابت کرو کہ نبی آسکتا ہے۔مولوی صاحب نے تین آیات قرآنی پیش کیں۔مگر تینوں آیتوں کے متعلق وزیر اعلیٰ صاحب انکار کا سر ہلاتے رہے اور جب مولوی صاحب آیات کی تشریح کرنے لگتے تو انہیں روک دیتے۔آخر مولوی صاحب نے کہا۔مفتی صاحب!