تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 534
تاریخ احمدیت جلد ۶ ۵۲۰ احرار کی مجرمانہ خاموشی ایسی چیز نہیں ہے جس کو آپ محض لفاظی میں اڑا کر یا مسلمانوں کو لسانی چھکائیاں دے کر ان کے ذہن سے نکال دیں وہ من حیث القوم اسی وقت آپ کی طرف سے مطمئن ہو سکتے ہیں۔جب آپ ایک ایسے نازک موقع پر ایسے اسلامی خود داری اور ناموس اسلام کے موقع پر اپنے خاموش رہنے اور اپنے کو خطرہ سے بچا کر گھر میں بیٹھ رہنے کے متعلق یا تو کوئی معقول جواز پیش کریں یا با اعلان کہہ دیں جلسہ عام میں اقبالی مجرم بن کر کہہ دیں کہ ہم میں ہمت مردانہ کا فقدان تھا۔ہماری غیرت دینی جوش میں نہ آئی۔ہم نے خانہ خدا کا انہدام اپنی رو پہلی سنہری مصلحتوں کے ماتحت جائز سمجھا تھا۔ہم انتخابی مہم میں سکھوں کو اپنا مخالف بنانا نہیں چاہتے تھے۔لہذا ہم نے خاموشی سے کام لیا۔زمیندار اور احسان نے سیاست اور انقلاب نے حق اور حقیقت نے ان حضرات کے متعلق جو کچھ لکھا ہے بالکل صحیح لکھا ہے۔یقینا مسلمانوں کو جماعت احرار سے بہت کچھ توقعات تھیں اور جب مسلمان بے کسی و بے بسی کے ساتھ ایک طرف اپنی جان سے زیادہ عزیز مسجد کو منہدم ہو تا ہوا دیکھ رہے تھے اور دوسری طرف سینہ پر گولیاں کھا رہے تھے۔اس وقت انہوں نے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر احراریوں کو ہر طرف دیکھا کہ یہ جانباز جماعت کہاں ہے مگر یہ جماعت گوشہ امن میں اپنے سالار یعنی امیر شریعت کے ساتھ پناہ گزین تھی۔اس کی بلا پولیس کے ڈنڈے کھاتی۔اپنے کو گولیوں کا نشانہ بناتی۔اپنے کو گرفتاریوں کے لئے پیش کرتی اور اپنے کو قانونی زد میں لا کر مصائب کا شکار بنتی۔اس جماعت کے کان پر جوں تک نہ رینگی اور آج پھر اپنے تقدس کا سکہ جمانے کے لئے ریش مقدس پر ہاتھ پھیرتے ہوئے امیر شریعت آگے بڑھے ہیں اور ان مسلم اخبارات کے خلاف زہر اگلتے پھرتے ہیں مگر اب ان کی ان زہر چکانیوں کو سب سمجھ چکے ہیں اور ان کے قول و فعل میں ہر مسلمان کو ایک کھلا ہوا بعد محسوس ہو چکا ہے۔اب امیر شریعت صاحب کے الفاظ میں کوئی وزن ان کی آواز میں کوئی اثر اور خود ان میں قطعا کوئی جاذبیت باقی نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔رد قادیانیت سے مولانا بخاری کو کبھی کسی نے نہیں روکا ہے۔بلکہ جب تک وہ سنجیدگی بلکہ آدمیت کے ساتھ رد قادیانیت کی طرف متوجہ رہے ہر ایک کی آنکھوں کا تارہ بنے رہے مگر اب وہ چاہتے ہیں کہ اپنی تمام کمزوریوں کو اس پردہ میں چھپائیں چنانچہ آج کل بھی مولانا یہی کر رہے ہیں کہ آپ کے خلاف کسی نے ذرا بھی سر اٹھایا۔آپ چیخنا شروع کر دیتے ہیں کہ یہ قادیانی ہے۔کافر ہے اکفر ہے۔جس وقت آپ مسجد شہید گنج کی شہادت کے سلسلہ میں اپنی مجرمانہ خاموشی پر غور فرماتے ہیں اور اپنی کمزوری کا احساس کرتے ہیں تو اس وقت آپ کو جائے پناہ اسی آڑ میں ملتی ہے کہ آپ کی اس کمزوری کو جو اخبارات یا جو جماعتیں یا جو افراد نمایاں کر رہے ہیں ان کو فور اقادیانی کہہ دیں اور عوام