تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 532
تاریخ کریں گے جب تک مسجد مسلمانوں کو واپس نہیں کر دی جاتی۔عطاء اللہ شاہ بخاری اس چیز کو سمجھ لیں کہ مسجد کبھی نہیں مٹائی جا سکتی۔البتہ مجلس احرار ضرور مٹ سکتی ہے۔مجلس احرار کے اس رویہ کو احراریوں کی موت سمجھنا چاہئے۔ہمارا یہ خیال ہے کہ مجلس احرار کی اس سکھ دوستی نے مجلس احرار کو قطعی مردہ کر دیا ہے اور مسلمانوں نے سمجھ لیا ہے کہ مجلس احرار اور مہاسبھا دونوں میں کوئی فرق نہیں"۔اخبار «مسلم گزٹ " کلکتہ - مولانا وحید الدین صاحب سلیم نے اپنے اخبار "مسلم گزٹ " کلکته (۴/ اگست ۱۹۳۵ء میں) مقالہ افتتاحیہ لکھا کہ۔شہید گنج کی مسجد کی شورش تقریباً فرو ہو چکی ہے اور مسلمان احراریوں کے ہاتھوں کلیجہ پر صبر کی سل رکھ کر خاموش ہو بیٹھے ہیں۔شہید گنج کی تحریک کو ایک طرف تو حکومت کے پریس افسروں اور سنسروں نے دبا دیا ہے اور دوسری طرف مجلس احرار کی قانونی موشگافیوں نے اس کا گلہ گھونٹ ڈالا ہے۔حکومت نہیں چاہتی کہ یہ مسئلہ اخبارات میں اچھالا جائے۔آئے دن حکومت کے تنبیہی احکام اور اقتناعی مراسلات پہنچا کرتے ہیں۔اور اخبار والوں کی کم و بیش گو شمالی کر دی جاتی ہے اور اس کے باوجود پبلک جذبات اور امن عامہ کو ملحوظ رکھتے ہوئے ہم مجبور ہیں کہ صحیح حالات سے پبلک اور حکومت دونوں کو باخبر رکھیں اور اپنی صحیح رائے عالم آشکار ا کر دیں۔احراریوں کی گزشتہ خدمات ہمارے پیش نظر ہیں اور ہم انہیں قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔لیکن اس کے یہ معنی نہیں کہ گزشتہ خدمات کی بنا پر احراریوں کے موجودہ جمود و سکوت کو بھی مسلمان سراہنے لگیں اور ان کے ہر غلط اور لغو سے لغو اقدام پر آنکھ بند کئے چلنا شروع کر دیں"۔-- اخبار "زمیندار" (۷/ اگست ۱۹۳۵ء) نے "مجلس احرار کی اخبار "زمیندار لاہور مفسدہ پردازی " کے عنوان سے لکھا۔" مسجد شہید گنج کی شہادت سے مسلمانوں کے قلوب داغدار ہو گئے اور ان میں کرب و اضطراب کی زیر دست بر پیدا ہو گئی۔لیکن زعماء مجلس احرار اس سانحہ عظیم سے ذرا بھی متاثر نہ ہوئے اور بدستور اپنے حجروں میں بیٹھے مراقبہ فرماتے رہے۔۔۔زعماء مجلس احرار کا فرض تھا کہ وہ اس وقت میدان میں آتے۔مسلمانوں کی صحیح راہنمائی کرتے اور ان کے سامنے مناسب پروگرام پیش کرتے لیکن انہوں نے اس وقت بھی مسلمانوں کی کوئی راہنمائی نہیں کی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانوں کا جوش و خروش ہی ان کا قائد بن گیا اور انہوں نے جلوس نکالے۔پر امن ستیہ گرہ کیا اور اپنے سروں پر لاٹھیاں اور سینوں پر گولیاں کھا ئیں۔زعماء مجلس احراران خونی مناظر کو دفتر احرار میں بیٹھ کر جو دہلی دروازے کے قریب