تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 529
تاریخ احمدیت جلد ۲ ۵۱۵ اس طرح مسلط ہو گئے تھے کہ عوام میں حق و باطل میں تمیز کرنے کی صلاحیت بھی ماند پڑ گئی تھی۔وقت سب سے بڑا منصف ہے اور وقت کا فیصلہ ہمیشہ غیر جانبدارانہ اور رعایت کی آلودگیوں سے پاک و صاف ہوتا ہے۔چنانچہ وقت کی قہرمانی طاقتوں نے مسجد شہید گنج کی مسماری کی شکل میں مجلس احرار کے لئے دور حاضرہ کی سب سے شدید اور حقیقتاً سب سے زیادہ ایمان پرور آزمائش کھڑی کر دی اور آپ جانتے ہیں اس آزمائش کا نتیجہ کیا ہوا؟ عطاء اللہ شاہ بخاری کی طلاقت لسانی سکوت مطلق کی نیند سو گئی۔مظہر علی اظہر کی مجاہد کیشی روباہ بازی میں تبدیل ہو گئی۔افضل حق کی چودھریت " کسی گوشہ عافیت میں جا چھپی اور حبیب الرحمٰن کی بلند آہنگی خموشی مرگ سے ہمنوا ہو گئی۔ان " سر بکفت مجاہدین اور خادمان دین متین " کی جگہ لاہور کی سرزمین ان نوجوانوں کے خون سے لالہ زار بن گئی جو گوشہ گمنامی میں پیدا ہوئے اور گوشہ گمنامی میں ہی زندگی بسر کر کے فلاح دارین کا مرتبہ حاصل کر گئے۔۔یہ شہادت کہ الفت میں قدم رکھنا ہے لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلماں ہونا احرار اپنی برات میں آج اشتہارات و اعلانات شائع کر رہے ہیں لیکن ان کے ایک ایک لفظ نفس پروری و منافقت کی بو آرہی ہے۔ان کے اعلان میں عورتوں کی طعن و تشفیع موجود ہے۔لکھنو کی بھٹیاریوں کی جنگ کا نقشہ باندھا گیا لیکن ان کا انداز تحریر جگہ جگہ ان کے جذبات کی غمازی کر رہا ہے۔زخمی سانپ کی طرح غصہ و انتقام کے جذبات سے بے قرار ہو ہو کر اور پھن کو اٹھا اٹھا کر اب ہمارے گم کردہ راہ رہنماؤں کی یہ جماعت ہم پر حملہ کرنے کی تیاری کر رہی ہے لیکن جس طرح زخمی سانپ کا سر کچل دینا ہی دانشمندی ہے اسی طرح ان گندم نما جو فروشوں کی قیادت کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ کر دینا صحیح قومی وملی خدمت ہے۔یہ لوگ اپنی عظمت رفتہ کو حاصل کرنے اور اپنی لیڈری کی گرتی ہوئی دیوار کو سنبھالنے کے لئے بے چین ہیں لیکن ہندوستان کے آٹھ کروڑ مسلمان اپنا فیصلہ صادر کر چکے ہیں اور قدرت کا نقیب باد از بلند منشائے ایزدی کو ظاہر کر چکا ہے کہ بد ترین محسن کش احسان ناشناس احرار مٹ گئے اور حقیقتاً انہیں مٹ جانا چاہئے تھا۔تم ۱۷/ جولائی ۱۹۳۵ء تک مسجد شہید گنج کو منہدم ہو تا دیکھتے رہے۔مسلمانوں کے نا قابل بیان رنج واندوہ کو محسوس کرتے رہے اور غیر ذمہ دار لوگوں کی شرارتوں " کا باطمینان تمام تماشہ دیکھتے رہے۔لیکن تم نے جو عوام کے معتمد علیہ تھے اس مصیبت کے وقت عوام کی کہاں تک رہنمائی و دلجوئی کی ؟ عوام تم پر اعتماد کرنے کے عادی ہو چکے تھے اور لامحالہ اس تکلیف میں بھی انہیں منہ اٹھا کر تمہاری طرف دیکھنا چاہئے تھا۔تمہارے لئے زیبا تھا کہ تم صوفوں پر لیٹے بجلی کے پنکھوں کی ہوا میں آرام سے ۲۷ جولائی کی کانفرنس کے خواب دیکھنے میں مصروف رہتے ؟ وہ وقت یقینا ایسا تھا کہ سنگدل سے 1