تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 528
تاریخ احمدیت جلد ۶ ۵۱۴ تحریک کے لئے کیا۔اس زمانہ کے اخبارات احرار کے خلاف مضامین سے بھرے پڑے ہیں جن کا مجموعہ ایک ضخیم کتاب کا مقتضی ہے۔مگر اس جگہ کثیر التعداد اخباروں میں سے ہم بطور نمونہ بعض کے صرف چند مختصر اقتباسات درج کرنے پر اکتفا کریں گے۔اخبار "منادی" دہلی ا۔خواجہ حسن نظامی صاحب نے اپنے اخبار "منادی" (۲۶/ جولائی ۱۹۳۵ء) میں احرار پر خدا کی مار" کے زیر عنوان لکھا۔” میں نے اپنے روزنامچہ میں لکھا تھا کہ یہ مولوی خود سرکاری ہیں اور سرکار سے خفیہ تنخواہیں ان کو ملتی ہیں۔آج خدا نے میرا بیان سچ کر دکھایا اور احرار اور ان کے مولویوں نے علانیہ سرکار کی حمایت اور مسلمانوں کے خلاف اپنے چہروں کی نقاب الٹ دی اور کھلم کھلا سرکار کی حمایت میں فتویٰ دے دیا۔یہ خدا کی گرفت ہے۔۔۔احرار کمیٹی کے بڑے بڑے اراکین جن کی حریت کی ملک میں دھوم تھی۔آج لاہور کے مسلمانوں اور مسجد کے معاملہ میں دم بخود بیٹھے ہیں "۔اخبار "سیاست" لاہور ۲- اخبار "سیاست" (۶ / اگست ۱۹۳۵ء) نے لکھا۔مسجد شہید گنج کے معاملہ میں برادران احرار نے جو طرز عمل اختیار کیا ہے اس کے بعد اب یہ کوئی راز نہیں رہا کہ جماعت احرار کا منشا صرف یہ ہے کہ وہ آئندہ الیکشن میں عام مسلمانوں کی ہمدردی حاصل کر کے کو نسل کے اندر زیادہ سے زیادہ نشستیں حاصل کر۔۔۔۔لاہور کے واقعہ نے بہت جلد مسلمانوں کو ہوشیار کر دیا۔اب انہیں معلوم ہوتا جاتا ہے کہ فتنہ قادیان "بھی الیکشن جیتنے ہی کی ایک چال تھی تاکہ اس ترکیب سے عام مسلمانوں کی ہمدردی حاصل کی جائے اور جس امیدوار کی مخالفت کرنا ہو اس کے خلاف قادیانی ہونے کا الزام لگا دیا جائے۔مولانا ظفر علی خاں ایڈیٹر ز میندار سے زیادہ انہماک ، خلوص اور جوش کے ساتھ کسی شخص نے بھی گزشتہ دس سال کے اندر تحریک قادیان کی مخالفت نہیں کی لیکن لاہور کے احراریوں نے مولانا کے متعلق بھی یہ مشہور کر دیا ہے کہ وہ بھی قادیان سے ساز باز رکھتے ہیں"۔اسی اخبار نے ۱۳/ اگست ۱۹۳۵ء کی اشاعت میں احرار ملت اسلامیہ کی سب سے بڑی غدار جماعت ہے" کے عنوان سے لکھا۔و ٹھگوں کا یہ منتظم گروہ جسے عرف عام میں " مجلس احرار " کہتے ہیں۔سالہا سال سے غریب و خوش عقیدہ مسلمانوں کی جیب پر ڈاکہ ڈال رہا تھا اور اپنی جادو بیانی اور شیوہ طرازی سے یہ لوگ فضا پر کچھ