تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 524
تاریخ احمدیت۔جلد ۶ کے شکریہ کی مستحق ہے "۔مجلس احرار اور مسلم عوام ۵۱۰ مسجد شہید گنج کے قضیہ سے احراری حقیقت کے رخ سے نقاب اٹھ گیا حکومت اور ہندو کی پشت پناہی نے ان کی آنکھیں کھول دیں اور انہوں نے احرار کو اصلی روپ میں دیکھ کر انہیں اس قدر پھٹکارا کہ تاریخ عالم ایسی ذلت اور بے آبروئی کی دوسری مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔ہندو کش سے لے کر ر اس کماری تک اور آسام و بنگال سے لے کر کراچی اور بمبئی تک شاید ہی کوئی قابل ذکر بستی ہوگی جس کے بسنے والے مسلمانوں نے ان کے لئے سخت سے سخت الفاظ استعمال نہ کئے ہوں۔یا کم از کم ان سے بیزاری کا اظہار نہ کیا ہو۔مسلم عوام کے اس ہمہ گیر احتجاجی مظاہرہ کا اندازہ کرنے کے لئے بطور مثال صرف چند خبریں ملاحظہ ہوں جو اس زمانہ کے اخبارات میں شائع ہوئیں۔اخبار "سیاست" لاہور (۲۷/ جولائی ۱۹۳۵ء) نے قصور شہر کے احراری جلسہ کی مندرجہ ذیل خبر شائع کی " قصور ۲۵/ جولائی۔آج جامع مسجد قصور میں چند احراری لونڈوں نے جلسہ کرنے کی کوشش کی۔مسلمان مسجد میں کافی تعداد میں جمع ہو گئے۔لیکن جب مجلس احرار کے نمائندے اپنی پوزیشن کی وضاحت کے لئے تقریر کرنے کو اٹھے تو عوام نے انہیں بے نقطہ گالیاں دیتا شروع کر دیں کسی فرد واحد نے احراریوں کی تقاریر کا ایک لفظ تک نہ سنا اور سب نے متفقہ طور پر اعلان کیا کہ ہم چندہ خور دھو کے باز اور افتراق پیدا کرنے والے احراریوں کی زبان سے ایک لفظ تک سننا گوارا نہیں کر سکتے۔اس کے بعد نمائندگان احرار کو دھکے دے کر مسجد سے نکال دیا گیا۔قصور میں احرار کے خلاف سخت غیظ و غضب کی فضا پھیلی ہوئی ہے۔مسلمان بازاروں میں گروه در گروہ کھڑے احرار کو گالیاں دے رہے ہیں۔اس وقت یہاں مجلس احرار کے خلاف سخت ہیجان ہے "۔روزنامہ "حقیقت" لکھنو نے ۲۴ / جولائی ۱۹۳۵ء کی اشاعت میں لکھا۔عوام کی ذہنیتیں بھی عجیب طرفہ تماشہ ہوتی ہیں ابھی چند ہی روز ہوئے جب لاہور میں مجلس احرار کا طوطی بول رہا تھا۔اور عطاء اللہ شاہ بخاری زندہ باد کے نعرے لگائے جارہے تھے یا آج یہ کایا پلٹ ہو گئی ہے کہ لاہور کی سڑکوں پر انہی لوگوں کی زبان سے " مجلس احرار برباد اور عطاء اللہ شاہ بخاری مردہ باد کے نعرے بلند کئے جارہے ہیں۔عام مسلمانوں کے طبائع میں یہ انقلاب محض اس وجہ سے ہو گیا کہ مجلس احرار نے مسجد شہید گنج کے معاملہ میں مسلمانوں کا ساتھ نہیں دیا نہ صرف لاہور بلکہ پنجاب کے مختلف مقامات پر مسلمانوں کے عام جلسے کر کے اس "' tt