تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 522 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 522

تاریخ احمدیت۔جلد ۶ ۵۰۸ کہہ دیں کہ اپنی توجہات خاکساریت کی طرف زیادہ منعطف کریں۔اس دشمن کا سد باب نہایت ضروری ہے۔مسئلہ حجاز کے متعلق میرا مشورہ صرف اتنا ہے کہ سلطان کی براہ راست ہر گز مخالفت نہ کی جائے کیونکہ اس طرح یہ تحریک ہمارے لئے نقصان دہ ثابت ہوگی۔یہ مانا کہ اس کی نگیت میں اس کا بھی کوئی خاص فائدہ ہو گا۔مگر ہمیں اس سے کیا۔ہمار ا مطلب پورا پورا حل ہو جائے گا۔پبلک کی توجہ شہید گنج ایجی ٹیشن سے ہٹانے کا اس سے بہتر اور کوئی حربہ نہیں و سکتا۔نیز اگر سلطان حجاز پر کما حقہ اثر ہو گیا تو مالی مشکلات بھی حل ہو جا ئیں گی اور چندے کی مصیبت سے کچھ عرصہ کے لئے نجات حاصل ہو جائے گی۔ہاں یاد آیا - ۱۶/ ستمبر کا جلسہ اگر لاہور میں ہوتا تو بہتر تھا۔اگر لاہور کے حالات موافق نہ ہوں تو اچھرہ میں ہی سہی۔یہ جلسہ بہت مفید رہے گا۔کیونکہ تمام نمائندگان کی موجودگی میں ہو گا۔اور کمزور طبیعتیں بھی مضبوط ہو جائیں گی۔۱۶/ ستمبر کے اجلاس میں شمولیت کی کوشش کروں گا۔والسلام احقر مظہر علی اظہر حکومت اور مجلس احرار اس موقعہ پر حکومت احراریوں کی حمایت کے لئے کھلم کھلا میدان میں آگئی۔اور لوگوں کو احرار کے خلاف کچھ کہنے یا لکھنے کی ممانعت کرنے لگی۔اس حقیقت کے ثبوت میں اخبار سیاست کی مندرجہ ذیل خبر ملاحظہ ہو۔امر تسر ۹ / اگست- آج صبح ۸ بجے چودھری محمد حسین چیمہ سب انسپکٹر پولیس اے ڈویژن مسٹر عزیز ہندی کو کو توالی لے گئے۔جہاں سے مسٹر غلام قادر سٹی کو تو ال امر تسر انہیں مسٹروشن بھگوان ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے پاس لے گئے۔دروان گفتگو میں مسٹر عزیز ہندی کو ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے تنبیہ کی کہ مجلس احرار کے جلسہ میں جو آج بعد نماز جمعہ مسجد میاں خیر الدین مرحوم میں منعقد ہو رہا ہے کوئی گڑ بڑ پیدا نہ ہو۔مسٹر عزیز ہندی نے آپ سے فرمایا کہ ان کا مسلمانوں کی کسی پارٹی سے تعلق نہیں ہے اور نہ ہی جلسوں میں گڑ بڑ سے ان کا کوئی سروکار ہے۔کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے ع "سیاست" کیا اب مجلس احرار کی ٹولی معاونت حکومت سے انکار کرنے کی جرات کرے گی ؟ اور عامتہ المسلمین کے سامنے احرار کی مخالفت کرنے والے ہر فرد کو ” قادیانی کہہ کر اپنے سیاہ کارانہ افعال پر پردہ ڈالنے میں کوشاں ہو جائے گی ؟ حکومت کے مندرجہ بالا حکم نے آج مجلس احرار اور حکومت کے تعلقات کا نقشہ دنیا کے سامنے کھینچ کر رکھ دیا ہے اور آج واگزاری مسجد کے مطالبہ پر دستخط