تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 518
۵۰۴ تاریخ احمد بیت ، جلد ۲ دو سرا باب (فصل یازدهم) حادثہ شہید گنج اور احرار کا عبرتناک انجام مخالفین احمدیت خوشی کے مارے پھولے نہیں سما رہے تھے کہ ہم احمدیوں کے خلاف ملک گیر شورش برپا کرنے اور بانی جماعت احمدیہ کے لخت جگر پر لاٹھی چلانے میں کامیاب ہو گئے ہیں اور اب عنقریب احمدیت کا نام و نشان مٹادیں گے کہ اچانک خدا کی بے آواز لاٹھی مسجد شہید گنج کے قضیہ کی شکل میں نمودار ہوئی اور ان کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی۔اور اس واقعہ نے ان کا سارا اثر و اقتدار خاک میں ملا کر رکھ دیا اور سارے منصوبے دھرے کے دھرے رہ گئے۔لاہور کے ریلوے سٹیشن سے دہلی دروازے کی طرف جائیں تو ٹیکنیکل سکول کے عقب میں جہاں سے لنڈا بازار شروع ہوتا ہے ایک بہت پرانی مسجد تھی جسے عام طور پر مسجد شہید گنج کہا جاتا تھا۔جب تک لاہور پر سکھوں کا قبضہ نہیں ہوا تھا۔اس مسجد میں مسلمان با قاعدہ نماز ادا کیا کرتے تھے مگر اس کے بعد سکھوں نے اس پر قبضہ کر لیا اور اسی وقت سے یہ مسجد سکھوں کے قبضے میں چلی گئی تھی۔جون ۱۹۳۵ء میں یکا یک پنجاب کے مختلف حصوں سے سکھوں کے جتھے لاہور آنا شروع ہوئے اور ساتھ ہی شہر میں یہ خبر پھیل گئی کہ سکھ مسجد شہید گنج کو مسمار کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں آہستہ آہستہ یہ خبر پا یہ یقین تک پہنچ گئی تو مسلمان لیڈروں کے ایک وفد نے گورنر پنجاب سر ہر برٹ ایمرسن سے عرض کی کہ یہ مسجد محکمہ آثار قدیمہ کی تحویل میں دے دی جائے اور جب تک اس تجویز پر باضابطہ عمل نہ ہو حکومت کو چاہئے کہ دفعہ ۱۴۴ کانفاذ کر دے تا مسجد کا فوری انهدام رک جائے۔گورنر پنجاب نے یہ بات ٹال دی۔اس کے بعد مسلمانوں کے وفد نے سکھ لیڈروں سے گفتگو کی تو سکھوں نے کم از کم اس بارے میں مسلمانوں کو مطمئن کر دیا کہ جب تک شرومنی گوردوارہ پر بندھک کمیٹی مسلمانوں کی اس تجویز پر اچھی طرح غور نہیں کرے گی اس وقت تک مسجد مسمار نہیں کی جائے گی۔ابھی یہ گفت و شنید جاری تھی کہ ۸/ جولائی کی صبح کو سکھوں نے یکا یک مسجد مسمار کر دی۔اور اس کے بعد ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ لاہور کی طرف سے شہر میں کرفیو آرڈر نافذ کر دیا گیا۔جس سے فرقہ